27 ویں آئینی ترمیم 26 ویں ترمیم سے زیادہ مہلک ہے: لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم 26ویں ترمیم سے بھی زیادہ مہلک ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کو اقتدار کا نشہ ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک میں پہلے یک جماعتی نظام کی کوشش کی گئی اور بھٹو کا انتخاب کیا گیا۔
لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا میں حکومت قائم رکھ کر حکومتی اتحاد اپنے اتحادیوں کو بلیک میل کر رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کا اجتماعِ عام پوری قوم کو متحد کرنے کا باعث بنے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لیاقت بلوچ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔