Jang News:
2026-06-03@02:25:11 GMT
جماعتِ اسلامی کے ’بد ل دو نظام’اجتماعِ عام میں بلوچستان سے لوگ شرکت کرینگے: مولانا ہدایت الرحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
مولاناہدایت الرحمٰن بلوچ—فائل فوٹو
جماعتِ اسلامی بلوچستان کے رہنما مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا ہے کہ بد ل دو نظام کے زیرِ عنوان جماعتِ اسلامی کے اجتماعِ عام میں بلوچستان بھر سے لوگ شرکت کریں گے۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر 10 سال بعد جماعتِ اسلامی کا مرکزی اجتماع ہوتا ہے۔
مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ 21 سے 23 نومبر تک مینار پاکستان پر جماعتِ اسلامی کا یہ مرکزی اجتماع ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ملک پر چند خاندانوں کا قبضہ ہے، ہم انصاف اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔
مولانا ہدایت الرحمٰن کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا مقدمہ ملک کے عوام کے سامنے رکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مولانا ہدایت الرحم ن نے کہا
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔