میکسیکو: میئرکے قتل کے بعد احتجاج‘ مشتعل افراد کا سرکاری عمارت پر دھاوا
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251104-06-3
میکسیکو سٹی(انٹرنیشنل ڈیسک) میکسیکو شہر کے میئر کارلوس مانزو کو مقامی فیسٹیول میں شرکت کے دوران گولی مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا،جس کے بعد احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق مچوآکان کے شہر اروپان کے میئر کارلوس مانزو کو ایک تقریب کے دوران فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔ میئر کارلوس مانزو نے ایک ہفتہ قبل ہی اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔ حکام نے بتایا کہ 40 سالہ کارلوس کے قتل میں ملوث 2 افراد کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ قاتل نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کشی کرلی۔ مقتول کارلوس مانزو کا شمار وفاقی حکومت کے ناقدین میں ہوا کرتا ہے۔ دوسری جانب واقعے کے بعد مشتعل مظاہرین نے سرکاری عمارت پر دھاوا بول دیا اور مظاہرین نے اْروپان کے گورنر الفریڈو رامیرز بیڈولا سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ۔ واضح رہے کہ میکسیکو میں پرتشدد واقعات میں کئی دنوں سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اسی سال گزشتہ مئی کے مہینے میں دارالحکومت میکسیکو سٹی کے مرکزی علاقے میں موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے میئر کلارا بروگاڈا کے پرسنل سیکرٹری اور مشیر کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔یاد رہے کہ اس سے قبل اتوار کے روز میکسیکو کی ریاست سنورا میں سپر مارکیٹ میں دھماکے سے کم از کم 22 افراد ہلاک اور 13 زخمی ہو گئے تھے۔ واقعہ سپر اسٹور میں ٹرانسفارمر پھٹنے کے باعث پیش آیا۔ دھماکے کے وقت عوام کی بڑی تعداد اسٹور میں موجود تھی۔
میکسیکو میں میئر کی ہلاکت کے خلاف شہری توڑ پھوڑ کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کارلوس مانزو
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں