دنیا کے 16ممالک میں شدید خوراک کی کمی، لاکھوں افراد کو قحط کا خطرہ، اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: اقوام متحدہ کی خوراک اور زراعت کی تنظیم (FAO) اور عالمی خوراک پروگرام (WFP) نے مشترکہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے 16 علاقوں میں شدید غذائی قلت بڑھ رہی ہے اور نومبر 2025 سے مئی 2026 کے دوران لاکھوں افراد قحط کا شکار ہو سکتے ہیں۔
عالمی رپورٹس کے مطابق زیادہ تر متاثرہ علاقوں میں بھوک کی بنیادی وجہ جنگ اور تشدد ہیں، اور سب سے زیادہ خطرے والے ممالک میں ہائٹی، مالی، فلسطین، جنوبی سوڈان، سوڈان، اور یمن شامل ہیں جہاں آبادی کو فوری طور پر شدید غذائی قلت کا سامنا ہے، افغانستان، کانگو، میانمار، نائجیریا، صومالیہ اور شام کو انتہائی خطرہ والے علاقے قرار دیا گیا، جبکہ برکینا فاسو، چاڈ، کینیا اور بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزین بھی شدید حالات سے دوچار ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ انسانی ہمدردی کے لیے فنڈز انتہائی کم ہیں۔ اکتوبر کے آخر تک صرف 10.
ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل QU Dongyu نے کہا کہ دنیا کے الرٹ سسٹمز کام کر رہے ہیں، لیکن ہمیں بحران کے بعد ردعمل دینے کے بجائے پہلے سے روکنے پر توجہ دینی چاہیے، قحط کی روک تھام صرف اخلاقی فرض نہیں بلکہ طویل مدتی امن اور استحکام میں سرمایہ کاری ہے، امن خوراک کی حفاظت کے لیے بنیادی شرط ہے اور خوراک تک رسائی ایک بنیادی انسانی حق ہے۔
WFP کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر Cindy McCain نے کہا کہ ہم ایک مکمل طور پر قابلِ روک بھوک کے بحران کے دہانے پر ہیں جو کئی ممالک میں وسیع پیمانے پر قحط کا سبب بن سکتا ہے۔
رپورٹ میں فوری فنڈنگ، سیاسی عزم اور انسانی ہمدردی کے لیے بغیر رکاوٹ رسائی کی اپیل کی گئی ہے تاکہ وقت سے پہلے قحط کی روک تھام کی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔