امریکا میں بچوں کیلیے بہترین وٹامن سپلیمنٹس کی فہرست جاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا میں غذائیت کے ماہرین نے بچوں کے لیے اعلیٰ معیار کے وٹامنز اور سپلیمنٹس کی نئی فہرست جاری کر دی ہے، اگرچہ زیادہ تر بچے متوازن غذا سے ضروری غذائی اجزا حاصل کر لیتے ہیں، لیکن بعض حالات میں وٹامن یا منرل سپلیمنٹس لینا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق ماہر غذائیت کیلی میک گرین اور ریچل اجمیرہ کی نگرانی میں کی گئی اس تحقیق میں چھ بہترین سپلیمنٹس کا انتخاب کیا گیا، جنہیں ایڈیٹرز، والدین اور ماہر ڈاکٹروں نے بھی جانچا۔
یہ فہرست دو سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کے لیے موزوں ملٹی وٹامنز اور سنگل نیوٹرینٹ سپلیمنٹس پر مشتمل ہے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان مصنوعات کا مقصد بچوں میں عام غذائی کمی کو پورا کرنا ہے۔
دیگر قابلِ غور سپلیمنٹس میں میگا فوڈ Kids One Daily Mini Multivitamin پانچ سال سے زائد عمر کے بچوں کے لیے تیار کردہ یہ گولیاں عام سائز سے 59 فیصد چھوٹی ہیں، البتہ ان میں بعض غذائی اجزا کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث محتاط استعمال کی ضرورت ہے۔
نیچر میڈ Kids First Multivitamin چار سے 18 سال کے بچوں کے لیے موزوں، ان گمی وٹامنز میں نو اہم غذائی اجزا اور 30 ملی گرام اومیگا 3 فیٹی ایسڈ شامل ہیں۔
تھورن Kids Multi چار سے 12 سال کے بچوں کے لیے اسٹرابیری-کیوی ذائقے والے یہ حل پذیر ڈسکس 15 ضروری وٹامنز اور منرلز فراہم کرتے ہیں، بعض والدین نے ذائقے پر ناپسندیدگی ظاہر کی ہے۔
اولی Kids Multi + Probiotic دو سال سے زائد عمر کے بچوں کے لیے تیار کردہ یہ گمیز 12 اہم وٹامنز کے ساتھ پروبائیوٹکس بھی فراہم کرتی ہیں۔
گارڈن آف لائف Kids Gummy چار سال سے زائد عمر کے بچوں کے لیے نامیاتی اجزا پر مشتمل یہ سپلیمنٹس مکمل غذائیت فراہم کرتے ہیں، ان میں چینی کی مقدار زیادہ پائی گئی ہے۔
ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی سپلیمنٹ کے استعمال سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں تاکہ بچے کی غذائی ضروریات کے مطابق صحیح انتخاب کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سے زائد عمر کے بچوں کے لیے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔