اسرائیل غزہ میں امداد کا داخلہ روک رہا ہے، یونیسیف
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
اقوام متحدہ کے امدادی ادارے نے اعلان کیا ہے کہ قابض صیہونی رژیم نے غزہ کی پٹی میں جنگبندی شروع ہونے کے بعد سے لیکر اب تک 271 فلسطینی شہریوں کو شہید اور 622 دیگر کو زخمی کیا ہے اسلام ٹائمز۔بچوں کی امداد کیلئے اقوام متحدہ کے عالمی ادارے یونیسیف (UNICEF) نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل، بچوں کی ویکسینیشن کے لئے سرنجوں اور فارمولا دودھ کی بوتلوں کو غزہ میں داخل ہونے سے مسلسل روک رہا ہے۔ یونیسیف نے وضاحت کی کہ غزہ میں جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے، اسرائیل نے 107 بچوں سمیت 271 فلسطینی شہریوں کو شہید اور 221 بچوں سمیت 622 افراد کو زخمی کیا ہے۔ اپنی رپورٹ میں یونیسیف نے تاکید کی کہ ان میں سے زیادہ تر جرائم "یلو لائن" کے پیچھے وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے لکھا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ جنگ بندی کی دفعات کے تحت غزہ کی پٹی میں روزانہ 600 امدادی ٹرک داخل ہونے چاہئیں، تاہم اس وقت غزہ کی پوری پٹی میں روزانہ 200 سے زائد ٹرک داخل نہیں رہے۔ یونیسیف نے مزید کہا کہ اسرائیلیوں نے نہ صرف غزہ میں ہسپتالوں، بجلی اور پانی کے اسٹیشنوں کے لئے ایندھن اور ضروری آلات کے، معمول کے مطابق داخلے کو بھی روک رکھا ہے بلکہ بھاری مشینری کے داخلے پر بھی سخت پابندی عائد کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کیا ہے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔