وزیراعظم آزاد کشمیر کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع ۔ فیصل راٹھورنامزد
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251115-01-19
مظفرآباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی گئی، پیپلز پارٹی نے سیکرٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کروائی، پیپلز پارٹی نے فیصل راٹھور کو آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کیلیے نامزد کر دیا۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجا پرویز اشرف نے بتایا کہ ہمارے نمبرز پورے ہیں، ہم آزاد کشمیر میں حکومت بنائیں گے۔ پارٹی نے مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ ترجیح دی ہے۔ تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے 3 دن بعد اور 7 دن کے اندر سیکرٹری اسمبلی فہرست کارروائی میں نوٹس شامل کرنے کا پابند ہے۔ فہرست کارروائی میں شامل ہونے کے بعد اسپیکر اسمبلی پابند ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 18 کے تابع رائے شماری کے لیے دن مقرر کرے۔ سیکرٹری اسمبلی جتنا جلد ممکن ہو ایک نقل صدر اور بعجلت ممکنہ اراکین کو نوٹس تقسیم کریں گے۔ اس مقرر شدہ دن کو اسمبلی اجلاس اس وقت تک ملتوی نہیں کیا جا سکتا جب تک قرارداد مذکور پر رائے شماری نہ ہو جائے۔ اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہوجاتی ہے تو اس صورت میں آئندہ 6 ماہ تک دوبارہ تحریک عدم اعتماد نہیں لائی جا سکے گی۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کسی بھی وقت اسمبلی تحلیل کر سکتا ہے بشرطیکہ اس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع نہ کروا دی گئی ہو، اب چونکہ تحریک جمع ہو چکی ہے لہٰذا وزیراعظم سے یہ اختیار آئین کے تحت چھن گیا ہے۔ واضح رہے کہ فیصل راٹھور کا تعلق آزاد کشمیر کی ضلع حویلی سے ہے، ان کے والد کا تعلق بھی پیپلز پارٹی سے تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تحریک عدم اعتماد جمع پیپلز پارٹی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔