’واٹ آ سنڈے‘ پاکستان میں کیوں ٹرینڈ کرتا رہا؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
بھارت کی قومی اور اے کرکٹ ٹیموں کو گزشتہ روز اپنے اہم میچز میں ایک کے بعد ایک شکست ہوئی جس کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا پر نیا ٹرینڈ ’واٹ آ سنڈے What a Sunday‘ ٹرینڈ کرتا رہا۔
پاکستانی صارفین نے بھارت کی شکست کے بعد ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر میمز، دلچسپ تبصرے اور اپنے ردِعمل کی بھرمار کر دی۔
اتوار کے روز ایک ہی دن پاکستان کی کامیابیاں اور بھارت کی شکست پاکستانی شائقین کے لیے دلچسپ لمحہ بن گیا اور یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر طرف بس ایک ہی جملہ گونجتا رہا ’واٹ آ سنڈے What a Sunday‘
اتوار کو کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ نے بھارت کو 30 رنز سے شکست دی تھی۔
دوسری جانب قطر کے ویسٹ اینڈ پارک انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان شاہینز نے بھارت اے کو 8 وکٹوں سے باآسانی ہرا کر گروپ بی میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی اور ایشین کرکٹ کونسل مینز ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز 2025 کے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی۔
بھارتی کرکٹ کے لیے یہ نتائج اگرچہ مایوس کن تھے، تاہم پاکستان میں ان میچز نے سوشل میڈیا صارفین کے لیے بھرپور تفریح اور مزاحیہ مواد فراہم کیا، جس کے باعث ’What a Sunday‘ ٹرینڈ بن گیا۔
واضح رہے کہ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان کی قومی ٹیم نے بھی سری لنکا کو تیسرے ون ڈے میں 8 وکٹوں سے شکست دے کر وائٹ واش کردیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔