پاکستان اور قطر کے تعلقات میں اقتصادی و دفاعی تعاون کا نیا دور
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان اور قطر کے درمیان اقتصادی، دفاعی اور زرعی تعاون کے نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔
ایس آئی ایف سی کی معاونت سے یہ پیش رفت ممکن ہوئی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانا اور سرمایہ کاری و ٹیکنالوجی کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔
حال ہی میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی دوحہ میں قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع شیخ سعود سے اہم ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں دفاعی شعبے، زراعت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
دونوں ممالک کے سربراہان نے مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی ٹیکنالوجی اور مہارت کے تبادلے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
قطر کے وزیر دفاع نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے دفاعی تعاون میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی اور دفاعی تعلقات سے دفاعی صنعت اور برآمدات کو نئی جہت ملے گی۔
مزید برآں، دو طرفہ تعلقات کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی، زرعی پیداوار اور سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہوگا، جبکہ ایس آئی ایف سی پاکستان کی زرعی، اقتصادی اور دفاعی ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: قطر کے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔