سی ڈی اے کے پلاٹوں کی جعلی الاٹمنٹ اور بار بار ٹرانسفر پر سینیٹ کمیٹی برہم؛ ایک پلاٹ پانچ بار کیسے منتقل ہوا؟ جواب نہ مل سکا
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
سی ڈی اے کے پلاٹوں کی جعلی الاٹمنٹ اور بار بار ٹرانسفر پر سینیٹ کمیٹی برہم؛ ایک پلاٹ پانچ بار کیسے منتقل ہوا؟ جواب نہ مل سکا WhatsAppFacebookTwitter 0 17 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے استحقاق کا اجلاس چیئرمین سینیٹر وقار مہدی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں سی ڈی اے کے لینڈ ریکارڈ، پلاٹوں کی ٹرانسفر، کرپشن اور متاثرین کے معاملات پر اہم نکات زیرِ بحث آئے۔
اجلاس کے دوران چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے بتایا کہ سی ڈی اے نے پنجاب لینڈ ریونیو اتھارٹی کے ذریعے اپنا ریکارڈ اسکین کرایا ہے اور زیرِ سماعت عدالتی مقدمات میں پیشہ ورانہ انداز میں کارروائی جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی، اس پر مکمل عملدرآمد ہوگا، اور اگر کوئی غلطی پائی گئی تو اس کا جوابدہ سی ڈی اے خود ہوگا۔
اجلاس کے دوران سی ڈی اے حکام نے انکشاف کیا کہ ایک ایک فارم ہاؤس کی مالیت ڈیڑھ ارب روپے تک ہے اور ان سے متعلق کئی مقدمات زیر سماعت ہیں۔سینیٹر روبینہ خالد نے سخت سوال اٹھایا کہ”ایک پلاٹ پانچ مرتبہ سی ڈی اے دفتر میں کیسے ٹرانسفر ہوگیا؟”تاہم سی ڈی اے حکام اس سوال کا تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔
سینیٹر روبینہ خالدسینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ سی ڈی اے نے متاثرین کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، جس پر کمیٹی کے اراکین نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔کرپشن میں ملوث ملازمین کے خلاف کارروائی اور ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشنچیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ:زمینی ریکارڈ کو تیزی سے کمپیوٹرائزڈ کیا جا رہا ہے۔بدعنوانی میں ملوث اہلکاروں کے مقدمات ایف آئی اے کے سپرد کیے جا رہے ہیں۔سی ڈی اے عدالتوں میں مقدمات کے التوا کا باعث نہیں بنے گا۔
اس موقع پر سینیٹر پلوشہ خان نے ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے کو “کرپٹ ادارے” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پلاٹوں کی غلط الاٹمنٹ سے متعلق کیسز نیب کے سپرد کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کے کئی چھوٹے ملازمین کو غلط طور پر برطرف کیا گیا ہے جس کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ سی ڈی اے ریکارڈ فراہم کرنے اور کیسز نیب کو بھیجنے کے لیے تیار ہے، جس پر سینیٹر سعدیہ عباسی نے سوال اٹھایا کہ جب مقدمات عدالت میں زیر سماعت ہیں تو انہیں نیب میں کیسے بھیجا جا سکتا ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر وقار مہدی نے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ جعلی الاٹمنٹ اور جعلی ٹرانسفر کے تمام کیسوں کا مکمل ریکارڈ فوری فراہم کیا جائے۔متاثرین کے مسائل کے حل میں تاخیر نہ کی جائے۔اجلاس میں اراکین نے پارلیمنٹ لاجز میں اپنی رہائشگاہوں سے متعلق شکایات بھی پیش کیں، جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے پارلیمنٹ لاجز کا دورہ کرکے تمام مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرافریقی ملک کانگو میں تانبے کی کان میں لینڈ سلائیڈنگ سے 70فراد ہلاک مدینہ منورہ کے قریب بھارتی عمرہ زائرین کی بس کو حادثہ،42 افراد جاں بحق میڈیکل گراؤنڈ پر ضمانت کے مقدمے میں جسٹس محسن کے دلچسپ ریمارکس پاکستان ایک آزاد ملک، قرضوں میں نہیں پھنسنا چاہیے: امریکی ناظم الامور وزیراعظم آزاد کشمیر کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ آج، پیپلزپارٹی کا 38 ارکان کی حمایت کا دعویٰ ججز کے استعفوں پر خوشی کے ڈھول پیٹنے کے بجائے فالٹ لائنز پُر کرنا مناسب ہوگا، سعد رفیق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے استعفی سے متعلق جھوٹی خبر سوشل میڈیا پر وائرلCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سی ڈی اے کے پلاٹوں کی
پڑھیں:
اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دیدیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے 5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
مزید :