عرفان صدیقی کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی‘ یوسف رضا گیلانی
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (صباح نیوز) چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی مرحوم سینیٹر عرفان الحق صدیقی کے گھر گئے اور مرحوم سینیٹر عرفان الحق صدیقی کے بیٹوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ اتوار کوسینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں چیئرمین سینیٹ نے مرحوم سینیٹر عرفان الحق صدیقی کے انتقال پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا۔ سید یوسف رضا گیلانی نے مرحوم سینیٹر عرفان الحق صدیقی کے بیٹوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر عرفان الحق صدیقی کی قومی و پارلیمانی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،مرحوم کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلاء مدتوں پُر نہیں ہو سکے گا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سینیٹر عرفان الحق صدیقی میرے اچھے دوست تھے، عرفان الحق صدیقی کی صحافت اور کالم نگاری میں بے مثال خدمات کا اعتراف کرتے ہیں،ایوان بالا میں قانون سازی اور قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی میں مرحوم کی خدمات قابل تحسین تھے۔ چیئرمین سینیٹ نے مرحوم کے ایصالِ ثواب اور بلندیِ درجات کی دعا کی اور پسماندگان سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کی۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر عرفان الحق صدیقی کے اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مرحوم سینیٹر عرفان الحق صدیقی کے چیئرمین سینیٹ
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔