وفاقی آئینی عدالت کے مزید دو ججز نے حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
سابق چیف جج سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان ارشاد حسین شاہ اور جسٹس روزی خان نے آئینی عدالت کے جج کا حلف اٹھا لیا۔ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے دونوں ججز سے حلف لیا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی آئینی عدالت کے مزید دو ججز نے حلف اٹھا لیا۔ سابق چیف جج سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان ارشاد حسین شاہ اور جسٹس روزی خان نے آئینی عدالت کے جج کا حلف اٹھا لیا۔ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے دونوں ججز سے حلف لیا۔ ججز کی تقریب حلف برداری اسلام آباد ہائی کورٹ کے کانفرنس روم میں ہوئی۔ اس سے پہلے جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس کے کے آغا بطور جج وفاقی آئینی عدالت حلف اٹھا چکے ہیں۔ چیف جسٹس امین الدین خان سمیت وفاقی آئینی عدالت کے 7 ججز حلف اٹھا چکے ہیں۔ یاد رہے کہ جسٹس ارشد حسین شاہ 2019ء سے 2022ء تک سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جج رہے اور خیبر پختونخواہ کی نگران کابینہ کا بھی حصہ تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت کے حلف اٹھا لیا
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔