وفاقی آئینی عدالت: 2 نئے ججز جسٹس روزی خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ نے حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
وفاقی آئینی عدالت کے 2 نئے ججز جسٹس روزی خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ نے آج حلف اٹھا لیا۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے دونوں ججز سے حلف لیا۔
تقریب حلف برداری اسلام آباد ہائیکورٹ کے کانفرنس روم میں منعقد ہوئی، جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر، جسٹس ارباب محمد طاہر، جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس محمد اعظم خان، جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس نے بھی شرکت کی۔
مزید پڑھیں: چیف جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت کے لیے رجسٹرار کا تقرر کر دیا
اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر واجد حسین گیلانی اور سیکریٹری منظور احمد ججہ بھی تقریب میں موجود تھے۔
وفاقی آئینی عدالت میں اس وقت تک کل 7 ججز حلف اٹھا چکے ہیں، جن میں چیف جسٹس امین الدین خان بھی شامل ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے ایوان صدر میں حلف اٹھایا تھا۔ صدر آصف علی زرداری نے چیف جسٹس امین الدین خان سے حلف لیا تھا۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی تقرری پر مشاورت، جسٹس مسرت ہلالی نے عہدہ قبول کرنے سے معذرت کرلی
گزشتہ دنوں جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس کے کے آغا نے بھی وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے طور پر حلف اٹھا لیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جسٹس ارشد حسین شاہ جسٹس روزی خان چیف جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس ارشد حسین شاہ چیف جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت چیف جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت کے حلف اٹھا اور جسٹس
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔