فواد خان کا پاکستان آئیڈل میں جج بننے پر ناقدین کو دلچسپ جواب
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
پاکستان کے مقبول ترین اداکار اور گلوکار فواد خان نے پاکستان آئیڈل میں جج کے طور پر اپنی شمولیت پر ہونے والی تنقید کا ایک بار پھر دلچسپ جواب دے دیا۔
فواد خان پاکستان، بھارت، بنگلادیش سمیت دنیا بھر میں بےحد مقبول ہیں، فواد خان نے بالی ووڈ میں بھی کامیاب انٹری دے کر اپنی کامیابی کا لوہا منوایا اور فلم ’خوبصورت‘، ’کپور اینڈ سنز‘ اور ’اے دل ہے مشکل‘ جیسی فلموں میں شاندار اداکاری کی۔
ان دنوں فواد خان پاکستان آئیڈل میں بطور جج شریک ہیں، جس پر مختلف سوشل میڈیا صارفین اور گلوکاروں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ فواد خان گلوکاری کے مقابلے کے جج بننے کے اہل نہیں۔
فواد خان نے شو کے دوران سوشل میڈیا پر کچھ تنقیدی کمنٹس بھی پڑھے اور ہنستے ہوئے کہا، ’میں نے بہت سارے کمنٹس دیکھے ہیں جس میں کہا گیا کہ کانٹیسٹنٹس کو چاہیے یہ ججز کو ہی باہر کر دیں، خاص طور پر مجھے، تو میرا ان سب کو جواب ہے، چل بے!‘
View this post on InstagramA post shared by Green TV Entertainment (@greenentertainment.
انہوں نے کہا کہ میں سب کو پیار کرتا ہوں اپنے سپورٹرز کو بھی اور ان لوگوں کو بھی جو مجھ پر تنقید کرتے ہیں، سب کو اپنی رائے کا حق ہے، پیار سب کے لیے برابر ہے، شاید ان کے لیے ذرا زیادہ ہے جو مجھے چاہتے ہیں لیکن میں سب سے محبت کرتا ہوں۔
فواد خان کے اس جواب کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے، کئی صارفین نے ان کے جواب کو پسند کیا، جبکہ کچھ نے تنقید کو جائز قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فواد خان
پڑھیں:
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو:
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔