سیاسی جج قومی قیادت کی تضحیک کرکے اپنی فیملیز کو یہ تماشا دکھاتے تھے، خواجہ آصف کی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اصل میں یہ اصلاحات خود سپریم کورٹ کو کرنی چاہیے تھیں تاکہ اندرونی نظام منصفانہ رہتا، مگر چونکہ ایسا نہیں ہوا، اس لیے پارلیمنٹ کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔
سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ ہے، اس لیے عدالتی نظام کو زیادہ شفاف اور متوازن بنانے کے لیے قانون سازی کی گئی۔
اصل میں یہ اصلاحات خود سپریم کورٹ کو کرنی چاہیے تھیں تاکہ اندرونی نظام منصفانہ رہتا، مگر چونکہ ایسا نہیں ہوا، اس لیے پارلیمنٹ، جو عوام کی نمائندہ ہے، نے یہ قدم اٹھایا تاکہ عدالتی نظام کو زیادہ شفاف اور متوازن بنایا جا سکے۔
عدلیہ کی حقیقی آزادی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ وہ سیاسی دباؤ…
— Khawaja M.
خواجہ آصف نے کہاکہ عدلیہ کی حقیقی آزادی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ وہ سیاسی دباؤ سے آزاد ہو، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے اندر مساوات اور انصاف قائم رہے۔
وزیر دفاع نے کہاکہ جب چند ججز ملک کے تمام اہم فیصلوں پر حاوی ہو جائیں تو غیر جانبداری کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے اور ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ جب ان سیاسی ججوں کے سامنے سیاسی مقدمات لگتے تھے تو یہ اپنی فیملیز کو بلا کر تماشا دکھاتے تھے کہ وہ انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر ملک کی سیاسی قیادت کے ساتھ کیا تضحیک آمیز سلوک کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ بڑی بڑی کرسیوں پر جب بہت چھوٹے لوگ جب بیٹھ جائیں تو دھرتی کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: اپوزیشن اتحاد کا 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف شدید ردعمل، یوم سیاہ اور مارچ کا اعلان کردیا
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 27ویں ترمیم کو آئین پر حملہ قرار دیتے ہوئے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا، اور آج صدر مملکت نے ان کے استعفے منظور کرلیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ججز استعفے جسٹس اطہر من اللّٰہ جسٹس منصور علی شاہ خواجہ آصف صدر مملکت وزیر دفاع وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ججز استعفے جسٹس اطہر من الل ہ جسٹس منصور علی شاہ خواجہ ا صف صدر مملکت وزیر دفاع وی نیوز خواجہ ا صف نے کہاکہ
پڑھیں:
ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے آسٹریلیا کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں استعمال ہونے والی اسپن فرینڈلی وکٹوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ٹیم کی حکمت عملی جامع تحقیق اور مختلف حالات کے جائزے پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ون ڈے ٹیم کی تشکیل پر مسلسل کام جاری، ورلڈ کپ کو ہدف بنایا لیا، مائیک ہیسن
پاکستان نے 3 میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 کی برتری حاصل کر رکھی ہے تاہم بعض کرکٹ مبصرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا سست اور اسپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹیں ٹیم کو 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے مؤثر تیاری فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مائیک ہیسن نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ جنوبی افریقا کی تمام وکٹیں تیز اور باؤنس والی ہوتی ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ میں یہ باتیں سن رہا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ وکٹیں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے موزوں نہیں ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔
I've been hearing a bit of chatter about the pitches here in Pakistan not being the ideal preparation for the World Cup in South Africa. It’s actually a topic I talked about on the latest #PCB podcast.
Firstly the World Cup is jointly hosted in South Africa, Zimbabwe and…
— Mike Hesson (@CoachHesson) June 1, 2026
ہیسن نے یاد دلایا کہ سنہ 2027 کا آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ صرف جنوبی افریقا میں نہیں بلکہ زمبابوے اور نمیبیا میں بھی کھیلا جائے گا جہاں متعدد میدانوں پر اسپنرز کو نمایاں مدد ملتی ہے۔
مزید پڑھیے: ورلڈ کپ سے قبل پاور پلے اور مڈل اوورز میں بہتری ضروری ہے، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن
انہوں نے کہا کہ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے کئی وینیوز موجود ہیں جہاں اسپن ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور پاکستان کو وہاں بھی میچز کھیلنے ہیں۔
پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے سال 2024 میں جنوبی افریقا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارل میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں بھی اسپن بولنگ نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی افریقہ کی تمام وکٹوں کو یکساں طور پر تیز اور باؤنس والی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر کہ جنوبی افریقا کی ہر وکٹ رفتار اور باؤنس کے لیے مشہور ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔
مزید پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ نے شائقین کو یقین دلایا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ورلڈ کپ کے حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 ماہ کے دوران مختلف حالات اور وکٹوں پر کھیلنے کی بھرپور تیاری کی جائے گی تاکہ پاکستان عالمی ایونٹ کے لیے ہر ممکن طور پر تیار ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان کی اسپن فرینڈلی وکٹس پاکستان کی سلو وکٹس پاکستانی پچز پاکستانی وکٹس مائیک ہیسن ورلڈ کرکٹ کپ 2027