Islam Times:
2026-06-03@05:24:25 GMT

ظہران ممدانی کی کامیابی، کیا امریکہ بدل رہا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

ظہران ممدانی کی کامیابی، کیا امریکہ بدل رہا ہے؟

اسلام ٹائمز: مجھے یوگنڈا میں پیدا ہونیوالے ظہران ممدانی کی ذاتی زندگی، نیویارک میں آمد، اس کی فلم پروڈیوسر ہندو والدہ، مسلمان والد کے خاندانی پس منظر اور تارکین وطن کی صورتحال پر کوئی بات نہیں کرنی، سوائے اس کے کہ امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام کو ایک ایشیائی نوجوان باشندے نے اپنی انتخابی مہم سے جو شکست دی ہے، اس سے بھی دنیا بھر کے اکثریتی طبقہ جسے بانی انقلاب اسلامی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ مستضعفین جہاں کہتے ہیں۔ تحریر: سید منیر حسین گیلانی

شعبہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے پروفیسر محمود ممدانی اور فلم پروڈیوسر نرما نائر کے چونتیس سالہ بیٹے ظہران ممدانی امریکہ کی تاریخ میں پہلے مسلمان میئر منتخب ہوگئے، جس پر مختلف جہتوں سے تبصرے جاری ہیں۔ اس سے پہلے پاکستانی نژاد صادق خان لندن کے پہلے مسلمان میئر منتخب ہوئے اور وہ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کے طور پر ظہران ممدانی کی نیویارک میں فتح حیران کن اس حوالے سے ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور ان پر الزامات بھی عائد کئے۔ لیکن اس کی منفرد انتخابی مہم کا حیران کن نتیجہ آیا۔ دنیا کی حالیہ تاریخ خاص طور پر امریکہ کی ریپبلکن حکومت میں اور اسرائیلی صیہونیت کے اثر و رسوخ کے باوجود انتخابی معرکے میں انسانیت کی دشمن دونوں قوتوں کو شکست ہوئی۔

گذشتہ دو سال سے زائد عرصے میں غزہ میں جاری انسانیت سوز مظالم دنیا بھر نے دیکھے، ابھی تک کوئی فلسطینی مظلوموں کی آہوں اور سسکیوں کو خوشیوں میں تبدیل نہیں کرسکا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے ازالے کا معمولی حصہ اللہ تعالیٰ نے ہر دو شیطانی قوتوں کو نیویارک میں عبرتناک شکست سے ظاہر کیا اور اس میں سے ظہران ممدانی کی شکل میں چھوٹے طبقے کو جو کامیابی ملی ہے، اطمینان بخش ہے۔ برصغیر میں جغرافیائی سیاسی تبدیلی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح خوجہ فیملی سے تعلق رکھتے تھے، ظہران ممدانی انہی کے خاندان سے ہے۔ یہاں میں کسی کی ذاتی زندگی کو نہیں زیر بحث لانا چاہتا۔ فرقہ وارانہ تعصبات سے لگتا ہے کہ ہم مسلمان نہیں رہے، فرقوں میں بٹ چکے ہیں۔ کھلے دل کا مالک ظہران ممدانی امریکی شہری ہے۔ ہمارے لیے یہی کافی ہے کہ وہ مسلمان ہے، جو مظلوم فلسطینی عوام کا حمایتی ہے۔ اس کے مسلک پر بحث ان لوگوں کی شروع کردہ ہے، جو اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرنے کیلئے مختص بجٹ سے مستفید ہونیوالے ہیں۔

پاکستان کے عام مسلمانوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اس خطے میں رہنے والے ہیں کہ جہاں ایک دوسرے کیساتھ رشتے داریاں ہیں۔ لہٰذا کسی قسم کا کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیئے، جس سے مسلمانوں کی وحدت کو نقصان ہو۔ ظہران ممدانی وہ نوجوان ہے، جس نے اسٹیبلشمنٹ کو ناکام بنایا ہے، یہ نوید ان لوگوں کیلئے ہے، جن میں سوچنے کی صلاحیت ہے۔ مجھے یوگنڈا میں پیدا ہونیوالے ظہران ممدانی کی ذاتی زندگی، نیویارک میں آمد، اس کی فلم پروڈیوسر ہندو والدہ، مسلمان والد کے خاندانی پس منظر اور تارکین وطن کی صورتحال پر کوئی بات نہیں کرنی، سوائے اس کے کہ امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام کو ایک ایشیائی نوجوان باشندے نے اپنی انتخابی مہم سے جو شکست دی ہے، اس سے بھی دنیا بھر کا اکثریتی طبقہ جسے بانی انقلاب اسلامی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ مستضعفین جہاں کہتے ہیں۔ اس مظلوم طبقے کے نمائندے نے عوامی حمایت سے امریکہ جیسے سرمایہ دارانہ نظام میں اپنی جگہ بنائی، وہ دنیا کی بڑی سپر پاور میں نظام کی تبدیلی کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔

ظہران ممدانی سابقہ صدارتی امیدوار سینیٹر برنی سینڈرز کا لگایا ہوا پودا ہے، امریکہ میں بڑی تعداد کے چھوٹے طبقے کے نمائندے نے اقلیتی سرمایہ دارانہ طبقے کو شکست دے کر جو کامیابی حاصل کی ہے، اس سے مجھ سمیت کروڑوں پاکستانیوں کی آنکھیں کھل جانی چاہیئں کہ وہ بھی ایک بڑی طاقت ہیں۔ اگر ظہران ممدانی سرمایہ دارانہ نظام کے تسلط کو ختم کرکے عام طبقے کی نمائندگی کرسکتا ہے، تو ہم بھی متحد ہوکر فرسودہ نظام کو ختم کرنے کی صلاحیت پیدا کرسکتے ہیں، جس کیلئے آج سے 1400 سال پہلے ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے نمائندے مولائے کائنات امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے اقتدار ملنے کے بعد کہا تھا کہ جن لوگوں نے ناجائز طریقے سے دولت اکٹھی کی ہے اور نظام سے فائدہ اٹھا کر اونٹنیاں خریدی ہیں اور ان سے بچے بھی پیدا ہوگئے ہیں تو وہ بھی بیت المال میں واپس لے لیے جائیں گے اور انہوں نے ایسا کیا بھی۔

ظہران ممدانی کی انتخابی مہم میں اختیار کیا گیا طریقہ کار منفرد تھا، جس نے لوگوں کو بہت متاثر کیا اور رائے عامہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کے طور پر ظہران ممدانی، چونکہ پہلے بھی مقامی اسمبلی کا ممبر تھا، تو وہ جانتا تھا کہ نیویارک کے مسائل کیا ہیں۔؟ ان مسائل کے حل اور ان سے آگاہی کیلئے شہریوں کے گھروں میں جا کر، سڑکوں پر کھڑے ہو کر آنے جانیوالے امریکیوں کو ان کے مسائل سے آگاہ کرتا رہا اور ان کا حل بھی پیش کرتا رہا۔ میں سمجھتا ہوں کہ چھوٹے طبقے کی خلوص دل سے نمائندگی کرتے ہوئے انہیں اپنائیت کا احساس دلایا جائے اور پیغام ان تک پہنچا دیا جائے تو وہ بھی بڑی نیک نیتی سے تبدیلی کے اس کاروان کے ہم سفر بن جاتے ہیں اور پھر مقصد اور قافلہ مضبوط سے مضبوط تر ہو جاتا ہے۔ ظہران ممدانی کہتا ہے کہ فلسطینیوں کا قاتل نیتن یاہو اگر نیویارک میں آیا تو وہ اسے گرفتار کروا دیں گے۔

میرے نزدیک حماس کیساتھ اسرائیل کی سیز فائر سے بھی مظلوموں کی بڑی کامیابی یہ ہے کہ نیویارک میں امریکی صدر کی مداخلت اور کوشش کے باوجود اس کے امیدوار کو ناکامی ہوئی اور فلسطین کے حامی کو کامیابی ملی، جبکہ اسرائیلی جارحیت اور انسانیت سوز مظالم کی حامی جماعت ریپبلکن کے امیدوار کو نیویارک کے الیکشن میں منہ کی کھانا پڑی۔ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں امریکہ اور صیہونی حکومت آرام سے تو نہیں بیٹھیں گے، مسلمان میئر کیخلاف سازشیں کریں گے، لیکن عوام کے اتحاد کیساتھ وہ اس میدان میں بھی ناکام ہوں گے۔ میں دعاگو ہوں کہ امریکی نظام میں چھوٹے طبقے کی نمائندگی اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے ظہران ممدانی کو اللہ تعالیٰ مزید قوت دے، تاکہ انہوں نے نئی امید کی جو داغ بیل ڈالی ہے، وہ دن بدن کامیابی کی طرف بڑھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سرمایہ دارانہ نظام ظہران ممدانی کی نیویارک میں کے امیدوار چھوٹے طبقے ہوں کہ اور ان

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟