Islam Times:
2026-06-03@07:02:53 GMT

ظہران ممدانی کی کامیابی، کیا امریکہ بدل رہا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

ظہران ممدانی کی کامیابی، کیا امریکہ بدل رہا ہے؟

اسلام ٹائمز: مجھے یوگنڈا میں پیدا ہونیوالے ظہران ممدانی کی ذاتی زندگی، نیویارک میں آمد، اس کی فلم پروڈیوسر ہندو والدہ، مسلمان والد کے خاندانی پس منظر اور تارکین وطن کی صورتحال پر کوئی بات نہیں کرنی، سوائے اس کے کہ امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام کو ایک ایشیائی نوجوان باشندے نے اپنی انتخابی مہم سے جو شکست دی ہے، اس سے بھی دنیا بھر کے اکثریتی طبقہ جسے بانی انقلاب اسلامی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ مستضعفین جہاں کہتے ہیں۔ تحریر: سید منیر حسین گیلانی

شعبہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے پروفیسر محمود ممدانی اور فلم پروڈیوسر نرما نائر کے چونتیس سالہ بیٹے ظہران ممدانی امریکہ کی تاریخ میں پہلے مسلمان میئر منتخب ہوگئے، جس پر مختلف جہتوں سے تبصرے جاری ہیں۔ اس سے پہلے پاکستانی نژاد صادق خان لندن کے پہلے مسلمان میئر منتخب ہوئے اور وہ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کے طور پر ظہران ممدانی کی نیویارک میں فتح حیران کن اس حوالے سے ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور ان پر الزامات بھی عائد کئے۔ لیکن اس کی منفرد انتخابی مہم کا حیران کن نتیجہ آیا۔ دنیا کی حالیہ تاریخ خاص طور پر امریکہ کی ریپبلکن حکومت میں اور اسرائیلی صیہونیت کے اثر و رسوخ کے باوجود انتخابی معرکے میں انسانیت کی دشمن دونوں قوتوں کو شکست ہوئی۔

گذشتہ دو سال سے زائد عرصے میں غزہ میں جاری انسانیت سوز مظالم دنیا بھر نے دیکھے، ابھی تک کوئی فلسطینی مظلوموں کی آہوں اور سسکیوں کو خوشیوں میں تبدیل نہیں کرسکا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے ازالے کا معمولی حصہ اللہ تعالیٰ نے ہر دو شیطانی قوتوں کو نیویارک میں عبرتناک شکست سے ظاہر کیا اور اس میں سے ظہران ممدانی کی شکل میں چھوٹے طبقے کو جو کامیابی ملی ہے، اطمینان بخش ہے۔ برصغیر میں جغرافیائی سیاسی تبدیلی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح خوجہ فیملی سے تعلق رکھتے تھے، ظہران ممدانی انہی کے خاندان سے ہے۔ یہاں میں کسی کی ذاتی زندگی کو نہیں زیر بحث لانا چاہتا۔ فرقہ وارانہ تعصبات سے لگتا ہے کہ ہم مسلمان نہیں رہے، فرقوں میں بٹ چکے ہیں۔ کھلے دل کا مالک ظہران ممدانی امریکی شہری ہے۔ ہمارے لیے یہی کافی ہے کہ وہ مسلمان ہے، جو مظلوم فلسطینی عوام کا حمایتی ہے۔ اس کے مسلک پر بحث ان لوگوں کی شروع کردہ ہے، جو اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرنے کیلئے مختص بجٹ سے مستفید ہونیوالے ہیں۔

پاکستان کے عام مسلمانوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اس خطے میں رہنے والے ہیں کہ جہاں ایک دوسرے کیساتھ رشتے داریاں ہیں۔ لہٰذا کسی قسم کا کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیئے، جس سے مسلمانوں کی وحدت کو نقصان ہو۔ ظہران ممدانی وہ نوجوان ہے، جس نے اسٹیبلشمنٹ کو ناکام بنایا ہے، یہ نوید ان لوگوں کیلئے ہے، جن میں سوچنے کی صلاحیت ہے۔ مجھے یوگنڈا میں پیدا ہونیوالے ظہران ممدانی کی ذاتی زندگی، نیویارک میں آمد، اس کی فلم پروڈیوسر ہندو والدہ، مسلمان والد کے خاندانی پس منظر اور تارکین وطن کی صورتحال پر کوئی بات نہیں کرنی، سوائے اس کے کہ امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام کو ایک ایشیائی نوجوان باشندے نے اپنی انتخابی مہم سے جو شکست دی ہے، اس سے بھی دنیا بھر کا اکثریتی طبقہ جسے بانی انقلاب اسلامی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ مستضعفین جہاں کہتے ہیں۔ اس مظلوم طبقے کے نمائندے نے عوامی حمایت سے امریکہ جیسے سرمایہ دارانہ نظام میں اپنی جگہ بنائی، وہ دنیا کی بڑی سپر پاور میں نظام کی تبدیلی کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔

ظہران ممدانی سابقہ صدارتی امیدوار سینیٹر برنی سینڈرز کا لگایا ہوا پودا ہے، امریکہ میں بڑی تعداد کے چھوٹے طبقے کے نمائندے نے اقلیتی سرمایہ دارانہ طبقے کو شکست دے کر جو کامیابی حاصل کی ہے، اس سے مجھ سمیت کروڑوں پاکستانیوں کی آنکھیں کھل جانی چاہیئں کہ وہ بھی ایک بڑی طاقت ہیں۔ اگر ظہران ممدانی سرمایہ دارانہ نظام کے تسلط کو ختم کرکے عام طبقے کی نمائندگی کرسکتا ہے، تو ہم بھی متحد ہوکر فرسودہ نظام کو ختم کرنے کی صلاحیت پیدا کرسکتے ہیں، جس کیلئے آج سے 1400 سال پہلے ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے نمائندے مولائے کائنات امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے اقتدار ملنے کے بعد کہا تھا کہ جن لوگوں نے ناجائز طریقے سے دولت اکٹھی کی ہے اور نظام سے فائدہ اٹھا کر اونٹنیاں خریدی ہیں اور ان سے بچے بھی پیدا ہوگئے ہیں تو وہ بھی بیت المال میں واپس لے لیے جائیں گے اور انہوں نے ایسا کیا بھی۔

ظہران ممدانی کی انتخابی مہم میں اختیار کیا گیا طریقہ کار منفرد تھا، جس نے لوگوں کو بہت متاثر کیا اور رائے عامہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کے طور پر ظہران ممدانی، چونکہ پہلے بھی مقامی اسمبلی کا ممبر تھا، تو وہ جانتا تھا کہ نیویارک کے مسائل کیا ہیں۔؟ ان مسائل کے حل اور ان سے آگاہی کیلئے شہریوں کے گھروں میں جا کر، سڑکوں پر کھڑے ہو کر آنے جانیوالے امریکیوں کو ان کے مسائل سے آگاہ کرتا رہا اور ان کا حل بھی پیش کرتا رہا۔ میں سمجھتا ہوں کہ چھوٹے طبقے کی خلوص دل سے نمائندگی کرتے ہوئے انہیں اپنائیت کا احساس دلایا جائے اور پیغام ان تک پہنچا دیا جائے تو وہ بھی بڑی نیک نیتی سے تبدیلی کے اس کاروان کے ہم سفر بن جاتے ہیں اور پھر مقصد اور قافلہ مضبوط سے مضبوط تر ہو جاتا ہے۔ ظہران ممدانی کہتا ہے کہ فلسطینیوں کا قاتل نیتن یاہو اگر نیویارک میں آیا تو وہ اسے گرفتار کروا دیں گے۔

میرے نزدیک حماس کیساتھ اسرائیل کی سیز فائر سے بھی مظلوموں کی بڑی کامیابی یہ ہے کہ نیویارک میں امریکی صدر کی مداخلت اور کوشش کے باوجود اس کے امیدوار کو ناکامی ہوئی اور فلسطین کے حامی کو کامیابی ملی، جبکہ اسرائیلی جارحیت اور انسانیت سوز مظالم کی حامی جماعت ریپبلکن کے امیدوار کو نیویارک کے الیکشن میں منہ کی کھانا پڑی۔ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں امریکہ اور صیہونی حکومت آرام سے تو نہیں بیٹھیں گے، مسلمان میئر کیخلاف سازشیں کریں گے، لیکن عوام کے اتحاد کیساتھ وہ اس میدان میں بھی ناکام ہوں گے۔ میں دعاگو ہوں کہ امریکی نظام میں چھوٹے طبقے کی نمائندگی اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے ظہران ممدانی کو اللہ تعالیٰ مزید قوت دے، تاکہ انہوں نے نئی امید کی جو داغ بیل ڈالی ہے، وہ دن بدن کامیابی کی طرف بڑھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سرمایہ دارانہ نظام ظہران ممدانی کی نیویارک میں کے امیدوار چھوٹے طبقے ہوں کہ اور ان

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • جی بی الیکشن:سکردو سےمسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی
  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟