ایران کی وزارت خارجہ کا موقف
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: ہم نے امریکی صدر کے اس دعوے کو فوری طور پر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں ایک دستاویز کے طور پر درج کرایا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس اعتراف کو کسی بھی عدالت میں ایک جارحانہ عمل میں امریکہ کی شرکت کے طور پر استعمال کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم صیہونی حکومت اور امریکہ کی فوجی جارحیت کو دستاویزی شکل دینے کے معاملے پر سنجیدگی سے پیروی کر رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر امریکہ کیخلاف شکایت اور مقدمہ دائر کرنے کے تمام دستیاب امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس پر صدر پزشکیان کے قانونی دفتر اور عدلیہ کے تعاون سے سنجیدگی سے غور و خوض کیا جا رہا ہے۔ ترتیب و تنظیم: علی واحدی
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران کے جوہری حقوق کی حمایت پر زور دیتے ہوئے یاد دلایا کہ ایک دن مغربی ممالک ایران کو جوہری سائنس کے مرکز کے طور پر قبول کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ایران کی سفارتی سروس کے ترجمان نے صحافیوں کے ساتھ سوال و جواب کی نشست میں ایران کی جانب سے معاہدے پر آمادگی کے حوالے سے امریکی صدر کے بیانات کے بارے میں کہا کہ امریکی رویہ ان کے بیانات کے برعکس ہے، ان کا نقطہ نظر موجودہ حالات میں دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ حقیقت میں وہ نہ تو خیر خواہی اور نہ ہی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی گذشتہ دنوں ایران کی جوہری توانائی تنظیم میں جوہری صنعت کی نئی کامیابیوں کی نمائش کا دورہ کرتے ہوئے تنظیم کے سینیئر حکام کے ایک گروپ کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کی۔
ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور سربراہ محمد اسلامی نے بھی ملک کی ایٹمی صنعت کی تازہ ترین صورتحال، پروگراموں اور کامیابیوں کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر وزیر خارجہ نے یہ بات زور دیکر کہی کہ ایٹمی صنعت اب ایک بہت بڑی صنعت بن چکی ہے اور مختلف شعبوں میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میری رائے میں، مغربی ممالک کے پاس بالآخر پرامن ایٹمی صنعت کے میدان میں ایران کو ایک سائنسی مرکز کے طور پر قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ یہ بیان کرتے ہوئے کہ ایرانی سائنسدانوں نے پرامن ایٹمی صنعت کے لیے سخت محنت کی ہے اور خون بہایا ہے اور ایران نے اس صنعت کے لیے جدوجہد کی ہے، وزیر خارجہ نے تاکید کی کہ ایران میں کوئی شخص بھی اپنے اس حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
بات چیت کے ساتھ ساتھ ایران کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گذشتہ دنوں ہفتہ وار پریس کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے بارے میں بیانات کے بارے میں کئی سوالات کے جوابات دیئے۔ اس سوال کے جواب میں کہ امریکی صدر نے ایران پر حملے کا اعتراف کرنے کے بعد مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران ایک معاہدے تک پہنچ جائے، کہا کہ ایرانی اچھے مذاکرات کار ہیں؛ وہ یہ نہیں کہتے کہ وہ کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں، لیکن وہ واقعی ایک معاہدے کی تلاش میں ہیں۔ اس معاملے میں آپ کی کیا رائے ہے۔؟ بقائی نے کہا کہ میں اس کا مختصر جواب دوں گا اور وہ یہ ہے کہ امریکی اس کے برعکس ہیں، جو وہ کہتے ہیں۔ جو وہ کہتے ہیں، حقیقت میں وہ ایسا نہیں کرتے۔ یہ ایک فریب ہے۔ عملی طور پر انہوں نے ثابت کیا ہے کہ اس سلسلے میں نہ ان کی نیت اچھی اور نہ ہی اس میں سنجیدگی ہے۔
سینیئر سفارت کار بقائی نے مزید کہا کہ امریکہ واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ ہم 22 سال سے ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کی مشق کر رہے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام سالوں میں جب بات چیت ہو رہی تھی، امریکی حکومت ایرانی قوم کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کرتی رہی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں، وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایسی صورت حال میں، جہاں ایک فریق دوسرے فریق کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون پر مبنی معقول مذاکراتی عمل پر یقین نہیں رکھتا تو اس صورتحال میں مذاکرات کے لیے ضروری شرائط کی تشکیل مشکل ہو جاتی ہے۔
جرم پر فخر، بات کرنے پر آمادگی؟!
پارلیمنٹ کے 80 اراکین کی جانب سے وزیر خارجہ کو حال ہی میں پیش کی گئی ایک یادداشت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ 12 روزہ جنگ میں امریکی جرم کا بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے اور اس بات پر زور دیا جائے کہ اس جنگ کو شروع کرنے میں براہ راست کردار کی وجہ سے امریکہ کو دنیا میں "جنگی مجرم" کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیئے، وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران کے ماضی کے تجربے اس پر شاہد ہیں، لیکن ہم ماضی میں نہیں رہیں گے، ہماری نگاہیں آگے کی طرف ہیں۔ ماضی کے تجربات پر نظر رکھتے ہوئے، یہ دیکھنے کے لیے 1953ء یا 1953ء میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایرانی قوم کے بارے میں امریکہ کا رویہ کیا تھا اور کیا ہے، اس کے لئے تین ماہ قبل جون کے مہینے کے امریکی اقدامات پر غور کرنا کافی ہے۔
ایران اور خطے کے بارے میں امریکہ کی کارکردگی کو نظر انداز کرنے والے خیالات پر تنقید کرتے ہوئے، سینیئر سفارت کار اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یہ خیالات، جو میرے خیال میں یک طرفہ طور پر پیش کیے جاتے ہیں اور ایران اور خطے کے بارے میں امریکہ کی کارکردگی کو نظر انداز کرتے ہیں، حقائق سے دور ہیں۔ ایران کے خلاف امریکہ کے معاندانہ اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ نے اعلیٰ سطح پر ایران کے خلاف جرم کیا ہے اور وہ اس جرم پر مسلسل فخر کر رہا ہے اور دوسری طرف یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کے خواہاں ہیں۔ بقائی نے تاکید کی کہ سب کو سمجھنا چاہیئے کہ ایران پر حملہ مذاکراتی عمل کے درمیان ہوا، اب یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے۔ پہلے کہتے تھے کہ یہ حملہ صیہونی حکومت کا کام ہے، لیکن اب امریکی صدر کے اعتراف سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اس حملے میں امریکہ کا براہ راست کردار تھا۔
ایران امریکہ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر رہا ہے
وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت میں ٹرمپ کے ملوث ہونے کے اعتراف اور امریکی حکام کو جوابدہ بنانے کے ایران کے اقدامات کے بارے میں بھی کہا ہے کہ ہم نے امریکی صدر کے اس دعوے کو فوری طور پر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں ایک دستاویز کے طور پر درج کرایا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس اعتراف کو کسی بھی عدالت میں ایک جارحانہ عمل میں امریکہ کی شرکت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم صیہونی حکومت اور امریکہ کی فوجی جارحیت کو دستاویزی شکل دینے کے معاملے پر سنجیدگی سے پیروی کر رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر امریکہ کے خلاف شکایت اور مقدمہ دائر کرنے کے تمام دستیاب امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس پر صدر پزشکیان کے قانونی دفتر اور عدلیہ کے تعاون سے سنجیدگی سے غور و خوض کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی صدر کے میں امریکہ کی صیہونی حکومت بین الاقوامی نے کہا ہے کہ کے بارے میں سنجیدگی سے ایٹمی صنعت کرتے ہوئے کے طور پر کہ ایران ایران کے ایران کی ہے کہ ہم کرنے کے رہے ہیں کے ساتھ میں ایک کے خلاف کے جواب کہا کہ رہا ہے ہے اور کے لیے
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔