سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد حسین چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت میں کمی اور عمران خان کو ریلیف دلوانے کے لیے حکومت کے سینیئر وزرا اور اسپیکر سے کی گئی ملاقاتوں میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور پی ٹی آئی کے ساتھ مڈل گراؤنڈ پیدا کرنے کے لیے ان ملاقاتوں کا دوسرا دور جلد شروع ہو رہا ہے۔

’وی نیوز‘ کے پروگرام ’سیاست اور صحافت‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت کے سینیئر وزرا اور اسپیکر سے ہونے والی ملاقاتوں میں یہ اتفاق طے پایا ہے کہ سیاسی درجہ حرارت کم ہونا چاہیے، تاہم حکومت کا یہ شکوہ برقرار ہے کہ ماضی میں پی ٹی آئی کی طرف سے مذاکرات کا مثبت جواب نہیں آیا۔

مزید پڑھیں: چوہدری شجاعت سے فواد چوہدری کی وفد کے ہمراہ ملاقات، مل کر کام کرنے پر اتفاق

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ بھی ملک میں سیاسی استحکام کی خواہاں ہے اور کسی فریق کے لیے یہ ممکن نہیں کہ تنازع کو یکطرفہ طور پر حل کرے۔

انہوں نے واضح کیاکہ سیاسی حل عمران خان کو شامل کیے بغیر ممکن نہیں کیونکہ وہ پی ٹی آئی کی اصل قوت ہیں اور ملک میں ہونے والے کسی بھی الیکشن کا محور وہی ہوں گے۔

فواد چوہدری نے کہاکہ حکومت کو سب سے پہلے کوٹ لکھپت جیل میں قید 5 رہنماؤں کی رہائی کے ذریعے اعتماد سازی کا قدم اٹھانا چاہیے کیونکہ موجودہ پی ٹی آئی قیادت عمران خان سے براہِ راست رابطے کی اہل نہیں۔

’حکومت ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنے میں ناکام رہی‘

سابق وزیر اطلاعات نے کہاکہ موجودہ حکومت بین الاقوامی سطح پر کامیابیاں سمیٹنے کے باوجود ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ سنسر شپ اور عدلیہ کے حالات نے معاشرے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 3 سالوں میں سیاسی درجہ حرارت مسلسل بلند رہا ہے اور عمران خان، بشریٰ بی بی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں کے علاوہ میڈیا اور عدلیہ بھی دباؤ کا شکار رہے۔

فواد چوہدری نے کہاکہ حکومت اور فیصلہ ساز عمران خان کا سیاسی متبادل پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں اور 8 فروری کو 65 فیصد ووٹ عمران خان کو ملنے کے باوجود اگر آج الیکشن ہوں تو وہ مزید مقبول ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی پرانی قیادت کو دیوار سے لگانا سنگین غلطی تھی۔ شاہ محمود قریشی، پرویز الٰہی، اسد عمر، پرویز خٹک، علی زیدی، حماد اظہر اور دیگر رہنماؤں کو انتخابی میدان سے باہر رکھ کر پارٹی کا نقصان کیا گیا۔

’دباؤ اور پکڑ دھکڑ کے بجائے بات چیت ہی مسائل کا حل ہے‘

فواد چوہدری نے کہاکہ دباؤ اور پکڑدھکڑ کی پالیسی کے بجائے سیاسی مکالمے کا راستہ اپنانا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں حکومت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو عوامی ردِعمل کو بڑھا دیں، کیونکہ جب لوگ سڑکوں پر آ جائیں تو کسی حکومت کے لیے انہیں کنٹرول کرنا ممکن نہیں رہتا۔

وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے حالیہ سخت بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہاکہ زبان درازی دونوں جانب سے ہوئی ہے جو پاکستانی سیاست میں بڑھتی ہوئی تلخی کی علامت ہے، اور جب تک اس تلخی کو کم نہیں کیا جائے گا، معاملات سلجھ نہیں سکیں گے۔

’وزیراعلیٰ کے پی کو دیوار سے لگانے کی پالیسی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے‘

انہوں نے خبردار کیاکہ خیبر پختونخوا کی صورتحال حساس ہے اور وزیراعلیٰ کو دیوار سے لگانے کی پالیسی خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ افغانستان اور خیبر پختونخوا سے متعلق حکومتی پالیسیوں کے تناظر میں پی ٹی آئی ہی واحد جماعت ہے جو وفاق اور صوبے کے مفادات کی نمائندگی کر سکتی ہے، جبکہ دیگر جماعتوں کے مؤقف میں اختلافات موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: ’تم ایک سیاسی جنازہ بن چکے ہو‘: رؤف حسن نے فواد چوہدری کو بھگوڑا قرار دے دیا

انہوں نے زور دیا کہ ملک کو سیاسی مکالمے کے ذریعے ہی استحکام کی طرف لے جایا جا سکتا ہے اور پرانی پی ٹی آئی کی بحالی کے سوا کوئی حل موجود نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سیاسی مکالمہ عمران خان عمران خان رہائی فواد چوہدری مقبولیت وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹیبلشمنٹ پی ٹی ا ئی خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی سیاسی مکالمہ عمران خان رہائی فواد چوہدری مقبولیت وی نیوز میں سیاسی درجہ حرارت ملک میں سیاسی پی ٹی آئی کی انہوں نے ہے اور کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل