بین الاقوامی خبر رساں ادارہ تسنیم کے مطابق لبنان کے سابق وزیر خارجہ عدنان منصور نے تہران میں منعقدہ جارحیت، حملے اور دفاع سے متاثر حقوق بین الملل كانفرنس میں شرکت کی۔ انہوں نے اس دوران وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے لبنان کے سابق وزیر خارجہ عدنان منصور سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران، لبنان کی حکومت، عوام اور مزاحمتی محاذ کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارہ تسنیم کے مطابق لبنان کے سابق وزیر خارجہ عدنان منصور نے تہران میں منعقدہ جارحیت، حملے اور دفاع سے متاثر حقوق بین الملل كانفرنس میں شرکت کی۔ انہوں نے اس دوران وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات کی۔

ایران کے وزیر خارجہ نے موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی حساس حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جارحانہ یکطرفہ پالیسی اور صہیونی رجیم کی خطے کے ممالک کے خلاف مسلسل جارحیت کے نتیجے میں خطہ ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے کے ممالک کو قانون شکنی اور صہیونی رجیم کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد اور ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

عراقچی نے مزید کہا کہ لبنان کے اندر مختلف سیاسی و سماجی طبقات کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی صہیونی جنگ طلبی اور دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے، اور ایران لبنانی حکومت، اس کے عوام اور مزاحمت (حزب اللہ) کی حمایت جاری رکھے گا۔ لبنان کے سابق وزیر خارجہ عدنان منصور نے بھی صہیونی رجیم کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور اس کی جانب سے فلسطین اور خطے کے دیگر ممالک پر مسلسل فوجی حملوں کی مذمت کی۔

انہوں نے صیہونی جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک پر لازم ہے کہ وہ صہیونی رجیم کی بڑھتی ہوئی دھمکیوں اور خطے کے امن و استحکام کے خلاف سازشوں کے مقابلے میں مشترکہ ذمہ داری ادا کریں۔ عدنان منصور نے 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں ایرانی قوم کے اتحاد اور یکجہتی کو سراہا، اور لبنان کی حکومت، عوام اور مزاحمت کی ایران کی مستقل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: لبنان کے سابق وزیر خارجہ عدنان منصور صہیونی رجیم کی عوام اور انہوں نے خطے کے

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم