لاہور میں 50 ہزار مساجد فعال، ضلعی انتظامیہ نے سروے شروع کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
مسجد کی گنجائش، مکتبہ فکر، مکمل پتہ اور کمیٹیوں کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنرز کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں فیلڈ میں مصروف ہیں۔ سروے ٹیمیں ریونیو سٹاف، یونین کونسل سیکرٹریز اور پولیس اہلکاروں پر مشتمل ہیں۔ تمام مساجد کا ریکارڈ مرتب کرکے محفوظ کیا جائے گا۔ مساجد کا ڈیٹا آئمہ کرام کے وظائف اور دیگر مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکے گا۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور میں کتنی مساجد فعال ہیں اور کتنی غیر فعال، ضلعی انتظامیہ نے سروے شروع کر دیا ہے۔ سروے شہر کی تمام 10 تحصیلوں میں جاری ہے۔ مسجد کی گنجائش، مکتبہ فکر، مکمل پتہ اور کمیٹیوں کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنرز کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں فیلڈ میں مصروف ہیں۔ سروے ٹیمیں ریونیو سٹاف، یونین کونسل سیکرٹریز اور پولیس اہلکاروں پر مشتمل ہیں۔ تمام مساجد کا ریکارڈ مرتب کرکے محفوظ کیا جائے گا۔ مساجد کا ڈیٹا آئمہ کرام کے وظائف اور دیگر مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکے گا۔ مساجد کی رجسٹریشن کیلئے 2016 میں ڈپٹی کمشنر دفتر میں ضلعی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔اب تک ضلعی کمیٹی میں محض 50 مساجد کا اندراج ہو سکا تھا۔ ضلعی انتظامیہ کے محتاط اندازے کے مطابق لاہور شہر میں 5 ہزار مساجد موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
اسلام آباد:ایف بی آر نے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان کردیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا باقاعدہ آغاز 27 جولائی سے ہوگا۔ ترجمان کی جانب سے تمام ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ٹیکس گوشوارے درست، مکمل اور دیانتداری کے ساتھ جمع کرائیں تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
ترجمان ایف بی آر کے مطابق ٹیکس ریٹرن میں فراہم کی جانے والی تمام معلومات درست اور حقیقت پر مبنی ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ٹیکس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے کہ گوشوارے میں درج تمام تفصیلات حقائق کے مطابق ہوں تاکہ شفافیت اور درستگی برقرار رہے۔
ایف بی آر کے ترجمان نے کہا کہ بروقت اور درست ٹیکس گوشوارے مضبوط ٹیکس نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنے ریٹرن بروقت جمع کرائیں اور معلومات کی درستگی کا خاص خیال رکھیں۔