وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے تحت بااثر قبضہ مافیا کا قبضہ ختم
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے تحت بااثر قبضہ مافیا کا قبضہ ختم WhatsAppFacebookTwitter 0 19 November, 2025 سب نیوز
فتح جنگ:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے عوامی خدمت کے ویژن اور کمشنر راولپنڈی و ڈپٹی کمشنر اٹک راؤ عاطف رضا کی ہدایات کی روشنی میں تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود نے شاندار کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے بااثر قبضہ مافیا سے یتیم بہنوں کی 87 کنال اراضی 31 سال بعد واگزار کروا لی۔
یہ اراضی موضع ثقال میں شبنم بی بی، سمیرا بی بی اور عضمیٰ بی بی دختران رشید احمد کی ملکیت تھی، جس پر طویل عرصہ سے قبضہ مافیا نے غیر قانونی طور پر قبضہ جما رکھا تھا۔اراضی کے کامیاب آپریشن اور واگزاری پر عوامی و سماجی حلقوں نے چوہدری شفقت محمود کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے حکومت پنجاب کی قبضہ مافیا کے خلاف واضح اور عملی کامیابی قرار دیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری شفقت محمود کا کہنا تھا کہ کسی بھی قبضہ گروپ کو رعایت نہیں دی جائے گی، قبضہ مافیا کا مکمل خاتمہ حکومت پنجاب کی ترجیحات میں شامل ہے، اور عوام کی ملکیت اور حقوق کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعدالت کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنائیں، 27 ویں آئینی ترمیم پڑھ کر آئیں: جسٹس حسن اظہر عدالت کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنائیں، 27 ویں آئینی ترمیم پڑھ کر آئیں: جسٹس حسن اظہر سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز ، پاکستان نے زمبابوے کو 5وکٹوں سے شکست دیدی آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی کا ملک بھر کے وکلا سے آئینی عدالت کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ خیبرپختونخوا کی زمین دہشتگردوں پر تنگ، سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مزید 23خواج ہلاک بنوں، شہریوں پر حملے کی کوشش ناکام، فتن الخوارج کا دہشتگرد بارودی مواد نصب کرتے ہوئے ہلاک عمران خان کی بہنوں کا آڈیالہ جیل کے قریب دھرنا، پولیس نے کارکنان کی گرفتاریاں شروع کردیںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: قبضہ مافیا
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔