پشاور، غیرقانونی پاکستانی دستاویزات سے سعودی ویزا حاصل کرنیکی کوشش کرنیوالے 5 افغانی گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار کیے گئے افغان شہری غیرقانونی طور پر پاکستان میں مقیم تھے، افغان شہریوں کو دبگڑی میں واقع نجی ہوٹل سے گرفتار کیا گیا، گرفتار ملزمان میں علی خان، اجمل، قاسم، احمد اور حمزہ شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے غیر قانونی شناختی دستاویزات حاصل کرنے والے 5 افغان شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق اسمگلنگ سرکل نے پشاور میں کارروائی کرتے ہوئے غیرقانونی شناختی دستاویزات حاصل کرنے میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتار کیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار کیے گئے افغان شہری غیرقانونی طور پر پاکستان میں مقیم تھے، افغان شہریوں کو دبگڑی میں واقع نجی ہوٹل سے گرفتار کیا گیا، گرفتار ملزمان میں علی خان، اجمل، قاسم، احمد اور حمزہ شامل ہیں۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے افغان دستاویزات اور پاکستانی شناختی کارڈ برآمد کیا گیا، ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان غیرقانونی راستے سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے، ملزمان نے جعلسازی سے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی حاصل کیا تھا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزمان نے انکشاف کیا کہ پاکستانی دستاویزات پر انہوں نے سعودی عرب کا ورک ویزا حاصل کرنا تھا۔ ترجمان کے مطابق ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ئی اے کے مطابق ترجمان ایف ایف ا ئی اے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔