پنجاب حکومت نے عام شہریوں کی زمینوں اور جائیدادوں کو قبضہ مافیا، دھوکہ دہی اور جعلسازی سے بچانے کے لیے ایک انقلابی قانون نافذ کردیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت 31 اکتوبر 2025 کو ہونے والے اجلاس میں پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف ایموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کی منظوری دی گئی، اس قانون کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جگہ جس کی ملکیت ہے، اسی کا قبضہ رہے اور غریب اور کمزور شہریوں کی چھوٹی سے چھوٹی جائیداد بھی محفوظ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: کیا بحریہ ٹاؤن کےلیے زمینوں پر قبضہ میں قائم علی شاہ اور شرجیل میمن نے ملک ریاض کا ساتھ دیا؟

وزیراعلیٰ مریم نواز نے اجلاس میں واضح ہدایات دیں کہ قبضہ مافیا کے خلاف کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور عدالتوں میں برسوں سے زیر التوا مقدمات اب صرف 90 دنوں میں نمٹائے جائیں گے۔

اس سلسلے میں صوبے کے ہر ضلع میں 6 رکنی ضلعی ’ڈسپیوٹ ریزولیشن‘ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، جن کے کنوینیئر ڈپٹی کمشنرز ہوں گے جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، لینڈ ریونیو آفیسر اور دیگر متعلقہ ضلعی افسران ارکان میں شامل ہوں گے۔

یہ کمیٹیاں 30 روز کے اندر مکمل طور پر فعال ہو جائیں گی اور انہیں سول عدالتوں جیسے اختیارات حاصل ہوں گے، جن میں شواہد طلب کرنا، سماعت کرنا اور فوری حفاظتی اقدامات اٹھانا شامل ہے۔ کمیٹی کے سامنے فریقین کو ذاتی طور پر پیش ہونا ہوگا اور وکلا کی نمائندگی کو محدود رکھا جائے گا۔

’قبضہ کیسز کے حل کا عمل انتہائی تیز رفتار بنایا گیا ہے‘

قبضہ کیسز کے حل کا عمل انتہائی تیز رفتار بنایا گیا ہے۔ متاثرہ شخص پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی ویب سائٹ یا ڈپٹی کمشنر آفس میں شکایت درج کروا سکتا ہے، جس کے لیے فرد، نقشہ اور ٹائٹل ڈیڈ جیسی دستاویزات جمع کرانی ہوں گی۔

ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی کے مطابق اب قبضہ مافیا خبردار ہوجائیں، ہمارے پاس جو سائل دراخوست لے کر آئے گا ہم اس کا قبضہ واگزار کروا کر دیں گے۔

’قبضے والی زمین کو واگزار کروانے کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں، جن میں جو زمین کا مالک ہوگا وہ اپنی دراخوست اسسٹنٹ کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں خود جمع کروائے گا۔ دراخوست گزار کو اپنی زمین کی تفصیلات دینا ہوں گی۔ اس کی زمین کہاں پر ہے اور کتنا رقبہ ہے یہ تفصیل بتانا ہوگی۔

زمین کے مالک کے پاس اس جائیداد کا فرد ہونا لازمی ہے۔ اس کے جس نے زمین یا گھر پر قبضہ کیا ہوا ہے اس کی تفصیلات بھی دراخوست میں بتانا ہوں گی۔

’قبضہ کرنے والے شخص کو قید کے ساتھ جرمانے کی سزا بھی ہوگی‘

قانون کے مطابق جس شخص نے زمین یا گھر پر غیر قانونی قبضہ کیا ہوا ہے اس کو جرمانے کے ساتھ ساتھ سزا بھی ہوگی اور اگر کوئی فرد جھوٹی دراخوست دیتا ہے تو اس کو بھی جرمانہ اور سخت سزا سنائی جائےگی۔

شکایت ملنے کے فوراً بعد کمیٹی تحقیقات شروع کر دے گی اور فریقین کو نوٹس جاری کیے جائیں گے۔

پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کا کمپیوٹرائزڈ نظام ریکارڈ کی تصدیق کو ایک دن میں ممکن بنا دے گا۔ سماعت کے دوران دونوں فریقین کے دلائل سنے جائیں گے اور وکلا کو صرف ایک دن میں تصدیق مکمل کرنی ہوگی۔

اگر قبضہ غیر قانونی ثابت ہوا تو فوری اسٹے آرڈر جاری کیا جائے گا اور 90 دنوں کے اندر حتمی فیصلہ سنایا جائےگا۔

’فیصلے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر زمین واگزار کرائی جائےگی‘

فیصلے کے بعد زمین کی واگزاری کا عمل انتہائی سخت ہے۔ کمیٹی کا حکم ملتے ہی 24 گھنٹوں کے اندر زمین مالک کو واپس دلائی جائے گی اور اس کے لیے پولیس کی مدد کے ساتھ ساتھ پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی جیسی پیرا فورس کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا ہے۔

مسئلہ حل کرنے والی کمیٹی کے فیصلے کے خلاف اپیل ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم خصوصی ٹریبونل سنے گا، جو ہر ضلع میں کم از کم ایک ہوگا اور اپیل کا فیصلہ بھی 90 دنوں میں حتمی طور پر کرے گا۔

اس قانون میں قبضہ مافیا کے خلاف سخت مجرمانہ سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ غیرقانونی قبضہ، دھوکہ یا جبر کے ذریعے جائیداد ہتھیانے پر 5 سے 10 سال قید اور بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ جبکہ سہولت کاروں کو ایک سے 3 سال قید اور 10 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام کارروائیوں کی ڈیجیٹل ریکارڈ کیپنگ کی جائے گی اور سماعتوں کو سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

متاثرین اس قانون سے فائدہ اٹھائیں گے، رانا انتظار ایڈووکیٹ

سینیئر وکیل لاہور ہائیکورٹ رانا انتظار حسین کے مطابق یہ آرڈیننس تمام پرانے قوانین کو اوور رائیڈ کرتا ہے اور سول اور کرمنل دونوں طریقوں سے جائیداد کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے۔

’خاص طور پر زرعی اور رہائشی جائیدادوں کے مالکان، جو اکثر قبضہ مافیا کا نشانہ بنتے ہیں، اس قانون سے براہ راست فائدہ اٹھائیں گے۔ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کا کمپیوٹرائزڈ نظام، جو 2017 سے چل رہا ہے، قبضہ کی روک تھام اور تصدیق میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔‘

انہوں نے کہاکہ اگر کوئی شہری اپنی جائیداد کے تحفظ کے لیے شکایت درج کروانا چاہے تو فوری طور پر متعلقہ ڈپٹی کمشنر آفس یا پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی سے رابطہ کر سکتا ہے۔ یہ اقدام پنجاب میں زمینی جرائم کے خاتمے اور فوری انصاف کی فراہمی کی ایک نئی مثال قائم کرے گا۔

اس آرڈیننس کو چیلنج کرنا مشکل ہوگا، ماہرین

معروف وکلا اور قانونی ماہرین کی رائے میں ضلعی ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹیوں کو سول کورٹ کے اختیارات دینا قانونی طور پر مکمل طور پر جائز ہے کیونکہ پنجاب اسمبلی کو آئین کی پانچویں شیڈول کے تحت ایسی ایگزیکٹو اتھارٹیز قائم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

مزید پڑھیں: قائداعظم یونیورسٹی کی ملکیتی زمین کتنی، سی ڈی اے نے بالآخر تصدیق کردی

ماہرین نے بتایا کہ 90 روز میں لازمی فیصلہ کرنے ہدایات کی وجہ سے عدالتوں پر دباؤ آئےگا اور تاخیری حربے اختیار نہیں کیے جا سکیں گے۔ مجموعی طور پر اس آرڈیننس کو سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ میں چیلنج کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پنجاب پنجاب حکومت جعلسازی دھوکہ دہی زمینوں سے قبضے کا خاتمہ قبضہ مافیا مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پنجاب حکومت دھوکہ دہی زمینوں سے قبضے کا خاتمہ قبضہ مافیا مریم نواز وی نیوز پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی قبضہ مافیا ڈپٹی کمشنر کے اندر قبضہ کی گا اور کے لیے گی اور

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ

پنجاب حکومت (Punjab Government)نے یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی سرکاری تعطیلات کے پیش نظر صوبے کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی تنخواہیں، الاؤنسز اور پنشن مقررہ تاریخ سے قبل ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کو جولائی کی تنخواہیں اور واجب الاؤنسز 31 جولائی کو ادا کیے جائیں گے، جبکہ صوبے کے تمام پنشنرز کو بھی اسی روز جولائی کی پنشن جاری کر دی جائے گی۔

محکمہ خزانہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں گورنر پنجاب (Governor of Punjab) نے 31 جولائی کو تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کی قبل از وقت ادائیگی کی منظوری دے دی ہے تاکہ تعطیلات کے باعث ادائیگی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔

مزیدپڑھیں:دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری

فیصلے پر عملدرآمد کے لیے محکمہ خزانہ نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب (Accountant General Punjab)، تمام ضلعی ٹریژری دفاتر اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسران کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ متعلقہ بینکوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 جولائی کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن کی بروقت ادائیگی کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کریں۔

حکام کے مطابق یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جا سکے اور انہیں مالی معاملات میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی