ماہ رنگ بلوچ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریویو کمیٹی کو ماہ رنگ بلوچ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر 30 دنوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی۔
عدالت نے لا افسران کو حکم دیا ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ماہرنگ بلوچ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار کی جانب سے عطا اللہ کنڈی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ اس سے قبل ماہرنگ بلوچ کے کیس کی پیردی ایمان مزاری ایڈووکیٹ کر رہی تھیں۔
وکیل عطاء اللہ کنڈی نے کہا کہ پٹیشنر کو 7 اکتوبر کو امریکا جانے سے روکا گیا، پہلے پی سی ایل اور پھر ای سی ایل میں نام شامل کیا گیا، ہم نے ریویو کمیٹی کو سفری پابندیوں کی فہرست سے نام نکالنے کی درخواست دے رکھی ہے۔
وکیل نے استدعا کی کہ ریویو کمیٹی کو درخواست پر فیصلہ کرنے کے لیے وقت کا پابند کیا جائے۔
چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ ہم 30 دنوں میں درخواست پر فیصلہ کرنے کی ڈائریکشن دے دیتے ہیں۔
عدالت نے ریویو کمیٹی کو ماہ رنگ بلوچ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر 30 دنوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیصلہ کرنے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔