وزیرِ بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بنکرنگ کے لیے تاریخ کا پہلا لائسنس جاری کر دیا گیا ہے، جس کے بعد کراچی پورٹ پر عالمی معیار کی بنکرنگ سروس کا باضابطہ آغاز ہوگیا ہے۔

وزیرِ بحری امور کے مطابق متعدد بین الاقوامی کمپنیوں نے بھی بنکرنگ لائسنس کے حصول میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے، جس سے مستقبل میں ملکی پورٹس سے اربوں روپے کی آمدنی متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی سروس کے تحت جہازوں کو بین الاقوامی معیار کا فیول سپلائی نظام فراہم کیا جائے گا، جو پاکستان کی میری ٹائم صنعت کے لیے اہم سنگِ میل ہے۔

جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ عالمی معیار کی یہ بنکرنگ سروس وزیرِ اعظم کی خصوصی ہدایات پر شروع کی گئی ہے، جس سے کراچی پورٹ کی علاقائی مسابقت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور غیر ملکی شپنگ لائنز کی آمد بھی بڑھے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بنکرنگ آپریشنز کے ذریعے ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا جبکہ کراچی پورٹ میں عالمی حفاظتی اور آپریشنل اسٹینڈرڈز بھی مکمل طور پر نافذ کر دیے گئے ہیں۔

وزیر بحری امور کے مطابق، اس نئی سہولت کے نتیجے میں میری ٹائم لاجسٹکس، سپلائیز اور جہازوں کی مرمت کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جب کہ ایندھن کے معیار، دستاویزات اور شفافیت پر عالمی اصولوں کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کراچی پورٹ

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان

برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔

ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔

جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔

اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔

جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا