WE News:
2026-06-02@23:27:57 GMT

فواد چوہدری کی سیز فائر مہم اور اڈیالہ جیل کا بھڑکتا الاؤ

اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT

فواد چوہدری کی سیاسی پوزیشن یا خیالات کچھ بھی ہوں ان کا خاصہ ہے کہ وہ اپنا موقف بیان کرنے میں مہارت رکھتے ہیں اور جو بیانیہ بنانا چاہیں اس کے لیے الفاظ اور دلائل کا انبار لگا دیتے ہیں۔

ان دنوں وہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی مہم چلا رہے ہیں اور پی ٹی آئی کے 2 سابق رہنماوں محمود مولوی اور عمران اسماعیل کے ساتھ مل کر مختلف حلقوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

ویک اینڈ پر وہ وی نیوز کے دفتر آئے اور اپنی اس مہم پر تفصیلی بات چیت کی۔ دوران گفتگو انہوں نے بتایا کہ ان کی کوششیں کافی بارآور ثابت ہورہی ہیں اور اب تک وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے کئی سینیئر وزرا اور اسپیکر سے ملاقاتیں کرچکے ہیں جنہوں نے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی ہامی بھری ہے۔

فواد چوہدری کے مطابق اسٹیبلشمنٹ بھی حالات کو نارمل بنانا اور ملک میں استحکام لانا چاہ رہی ہے اور وہ ان ملاقاتوں سے ملنے والی امید کے بعد رواں ہفتے یا اس سے اگلے ہفتے اس مہم کا دوسرا دور شروع کریں گے۔

فواد چوہدری کا ماننا ہے کہ ملک میں سیاسی سکون لانے کے لیے حکومت کو عمران خان کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں اعتماد بحال کرنے کی غرض سے کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی کی سینیئر قیادت شاہ محمود قریشی، اعجاز چوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر رہنماؤں کی مشکلات میں کمی لانی چاہیے اور رفتہ رفتہ ان کے مقدمات کے حل کی طرف بڑھنا چاہیے، بصورت دیگر پی ٹی آئی اگلے چند ماہ میں پشاور سے ایک اور مارچ اسلام آباد لانے پر مجبور ہوگی جس کے نتائج پہلے سے زیادہ خراب ہوسکتے ہیں۔

فواد چوہدری کی خواہشات اور کاوشیں اپنی جگہ لیکن جو کچھ وہ حاصل کرنا چاہ رہے ہیں، کیا آج کے پاکستان میں وہ ممکن ہے؟

صورتحال یہ ہے کہ حکمران اتحاد اس وقت حکومت اور ملک پر گرفت انتہائی مضبوط کرچکا ہے اور بظاہر اگلے کچھ سالوں تک ان کے اقتدار کو کوئی بڑا خطرہ نظر نہیں آرہا۔ انہیں عسکری قیادت کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور بین الااقوامی سطح پر بھی ان کی قبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کی اسٹریٹ پاور انتہائی کمزور پڑچکی ہے اور ناامیدی کے اندھیروں میں پی ٹی آئی کے ورکرز کو سڑکوں پر لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اگرچہ صوبہ خیبر پختونخوا کے نوخیز وزیراعلیٰ سرکاری وسائل، اپنے یوتھ ونگ کے جذبے اور کچھ دیوانے سپورٹرز کی بدولت ایک قافلے کا انتظام تو کر ہی لیں گے لیکن سابقہ احتجاجی جلوسوں کی ناکامی اور اس دوران ہونے والے تشدد کے پیش نظر پی ٹی آئی کے بیشتر حامی یا تو خود یا پھر اپنے خاندانوں کے دباؤ کے تحت ایسی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہی رہیں گے۔

سونے پہ سہاگہ جو بیانات وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بذات خود دے رہے ہیں ان کے بعد ادارے فی الوقت ان سے کسی طرح کی رعایت برتنے کے حق میں بالکل نہیں ہوں گے۔ سو اگر فواد چوہدری اور ان کے ساتھیوں کی خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچنا ہے تو اس کے لیے جہاں حکومت کو کچھ لچک دکھانی ہے وہیں پی ٹی آئی کو اپنے طرز عمل میں واضح تبدیلی لانا پڑے گی۔

حکومت کا کہنا یہ ہے کہ اس نے ماضی میں بھی کئی بار بات چیت کے ذریعے معاملات بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن جب بھی مسائل کے حل کی طرف پیشرفت ہوتی عمران خان کوئی ایسا اعلان کردیتے جس سے مذاکرات کا عمل رک جاتا۔

اب بھی جب تک عمران خان کی طرف سے ضمانت نہیں آئے گی یہ بیل منڈھے چڑھنے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔ بالخصوص ان حالات میں جب ریاستی ادارے بھی 9 مئی اور دیگر سنگین مقدمات پر پیچھے ہٹنے کو آمادہ نہیں ہورہے۔

تو پھر حل کیسے نکلے گا؟

فواد چوہدری اور حکومتی ترجمانوں کے بیانیے ایک طرف لیکن پاکستان کی سیاست کے کچھ حقائق ایسے ہیں جن کو مدنظر رکھ کر اور فیصلوں کی بنیاد بنا کر ہی تمام فریقین اپنے مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ موجودہ حکومتی انتظام کے حق میں بہتر یہی ہے کہ عمران خان جیل میں رہیں اور پی ٹی آئی سے اگر کوئی بات چیت ہوتی ہے تو اس کا مطمع نظر یہی ہو کہ اس کو احتجاج سے باز اور خاموش رکھا جائے۔ لہٰذا یہ حکومت کبھی بھی عمران خان کی رہائی یا تحریر و تقریر کی آزادی کی طرف بڑھنا نہیں چاہے گی یہاں تک کہ ریاستی ادارے خود یہ فیصلہ نہ کرلیں کہ قیدی نمبر 804 کو اب کچھ رعایت دے دی جائے۔

دوسری حقیقت یہ ہے کہ اڈیالہ کے باسی کا اب تک کا طرز عمل بالکل بھی ایسا نہیں رہا کہ بااختیار لوگ اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے اس کے گرد کسے گئے شکنجے کی کچھ زنجیریں ہلکی سی ڈھیلی کردیں۔ بالخصوص ان حالات میں جب اس کو دی گئی رعایت خود ان کے لیے مشکل بن کر سامنے آئے۔

ایسے میں گرہیں تبھی کھلیں گی جب ان میں بندھا ہوا ان کو دانتوں سے کاٹنے کے بجائے اپنی حرکت سے ان کو ڈھیلا کرے اور رویے کی چاشنی سے سخت رسیوں کو نرم کردے۔

فواد چوہدری کی اعمتاد سازی اور سیاسی درجہ حرارت میں کمی کی کوششیں بھی تبھی کامیاب ہوں گی جب اس درجہ حرارت کو بڑھانے والے اڈیالہ جیل کے الاؤ کی شدت وہاں کا باسی کم کرے گا۔ جب اس کو اندازہ ہوجائے گا کہ اس وقت اس کے گرد چلنے والی تیز ہوائیں اونچے شعلوں کو بھجانے کی سکت رکھتی ہیں اور اس کو فی الوقت بلند و بالا شعلوں پر نہیں بلکہ ہلکی آنچ پر بھروسہ کرنا ہے۔

اس آنچ کو اتنا ٹھنڈا کرنا ہے کہ شعلوں کو بھجانے کی سکت رکھنے والی ہوائیں جامد ہوجائیں، درجہ حرارت اتنا نیچے چلا جائے کہ اس کے شکنجے کو زنگ لگ جائے اور اس پر پڑا ہوا تالہ ناکارہ ہوکر خود ہی کھل جائے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

خرم شہزاد

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: فواد چوہدری کی پی ٹی آئی بات چیت رہے ہیں ہیں اور کے لیے ہے اور اور اس کی طرف

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے