4 ووٹ ابھی بھی ہماری جیب میں تھے، 28 ویں ترمیم کیلئے رکھ لئے: فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
اسلام آباد: (نیوزڈیسک) سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ چارووٹ ابھی بھی ہماری جیب میں تھے، وہ چار ووٹ ہم نے 28 ویں ترمیم کے لیے رکھ لیے ہیں۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ عدالتوں نے بھٹو کو 45 سال بعد انصاف دیا، عدالتوں میں انصاف کیسے ملتا ہے اس کی ایک ہسٹری ہے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ یہ 27 ویں ترمیم اتفاق رائے سے پاس ہوئی، چیئرمین سینیٹ نے تحریک انصاف کو 59 بار بلایا، تحریک انصاف والے سوشل میڈیا پر کچھ اور اندر ڈرامہ کرتے ہیں، تحریک انصاف والوں کو قوم کے ساتھ سچ بولنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے واک آؤٹ کا مقصد رضا مندی ہوتا ہے، اپوزیشن اس حکومت کی ضمانتی ہے، ترامیم نہیں رکیں گی تحریک انصاف کے بندے کم پڑجائیں گے۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ جمہوریت نے کونسا معرکہ مارا ہے، جمہوریت نے سکول، کالج، ہسپتال اور بجلی، گیس نہیں دی، آج سہیل آفریدی نے سب کو بلایا اچھا اقدام کیا۔
انہوں نے کہا کہ میری بات صحیح نکلی وہ 26 نومبر کو چڑھائی نہیں کرنے آ رہے، یہ ایک اچھی بات ہے، سہیل آفریدی کو بانی اور اپنے لیے آسانی پیدا کرنی چاہئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :