پرتگال میں مپاکس کے کیسز میں اضافہ، 3 ماہ میں 29 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لیسبن: پرتگالی صحت حکام نے بتایا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ملک میں 29 تصدیق شدہ مپاکس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں اگست میں 10، ستمبر میں 3 اور اکتوبر میں 16 کیسز شامل ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق صحت عامہ کی ڈائریکٹوریٹ (DGS) اور نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ (INSA) نے کہا کہ اکتوبر میں کیسز کی تعداد ماہانہ اوسط تقریباً 11 کے مقابلے میں بڑھ گئی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس کی منتقلی میں ممکنہ شدت دیکھی جا رہی ہے، تاہم ابھی کوئی نئی وبائی چوٹی سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اضافے کی درست تشریح لیبارٹری تصدیق اور آنے والے ہفتوں میں کیسز کے رجحان پر منحصر ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) نے اکتوبر کی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ مپاکس کے تمام معلوم وائرس اسٹرینز اب بھی گردش میں ہیں اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کمیونٹی میں پھیلاؤ جاری رہ سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حال ہی میں دریافت ہونے والا clade Ib اب افریقہ سے باہر بھی پھیل چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔