ذرائع کے مطابق کشمیری گلوبل موومنٹ نے انسانی حقوق کے سرگرم افریقی کارکنوں کے ساتھ مل کر جوہانسبرگ میں نیلسن منڈیلا کشمیر اور افریقہ امن سیمینار کا انعقاد کیا۔ اسلام تائمز۔ کشمیری گلوبل موومنٹ نے انسانی حقوق کے سرگرم افریقی کارکنوں کے ساتھ مل کر جوہانسبرگ میں نیلسن منڈیلا کشمیر اور افریقہ امن سیمینار کا انعقاد کیا۔ ذرائع کے مطابق افریقہ اور عالمی جنوبی ممالک سے تعلق رکھنے والے سول سوسائٹی کے کارکنوں، دانشوروں، سفارتکاروں اور امن کارکنوں نے شرکت کی اور کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ سیمینار کے شرکاء نے ایک قرارداد منظور کی جس میں بنیادی آزادی، وقار اور انصاف کو عالمی اصولوں کو دوبارہ تسلیم کیا گیا، جیسا کہ یونورسل ڈیکلیریشن آف ہیومن رائٹس، افریقی چارٹر آن ہیومن اینڈ پیپلز رائٹس، جنوبی افریقہ کے انسانی حقوق کے بل اور شہری اور سیاسی حقوق کے بارے میں بین الاقوامی کنونشن میں موجود ہے۔ قرارداد میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں پرامن اجتماع، مذہب اور اظہار رائے کے حق پر عائد پابندیاں، جبری گرفتاریوں، قتل عام، دوران حراست گمشدگیوں، خواتین کی عصمت دری اور وحشیانہ ظلم تشدد سمیت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی گئی۔

مقررین نے جنوبی افریقہ کی حکومت، افریقی یونین، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور گروپ 20 کے ملکوں کے رہنمائوں پر زور دیا کہ وہ بھارت کو اس کے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کا پابند بنائیں اور کشمیریوں کے حقوق کے احترام اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 47 (1948ء) پر عمل درآمد کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کرانے کیلئے بھارت پر دبائو بڑھائیں، تاکہ کشمیری عوام بغیر کسی دبائو کے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ کشمیری گلوبل موومنٹ کے چیئرمین سلمان خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیلسن منڈیلا کے مطابق آزادی کہیں بھی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک ہر جگہ آزادی حاصل نہ ہو۔ آج افریقہ کی اخلاقی آواز کشمیری عوام کی آزادی کے عالمی مطالبے کے ساتھ شامل ہو گئی ہے۔سیمینار کے مقررین نے زور دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی اور انصاف کی جدوجہد ایک عالمی مسئلہ ہے، جو افریقہ سے لے کر بھارتی کے زیر قبضہ کشمیر تک گونج رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نیلسن منڈیلا کشمیری عوام کے ساتھ حقوق کے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق