جیارجیا-آذربائیجان سرحد پر طیارہ حادثہ، ترکیے کے 20 فوجی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
ANKARA:
ترکیے کی وزارت دفاع نے جیارجیا اور آذربائیجان کی سرحد پر گزشتہ روز گر کر تباہ ہونے والے طیارے میں 20 فوجیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی۔
انادولو کی رپورٹ کے مطابق ترک قومی وزارت دفاع نے طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے 20 فوجی اہلکاروں کے نام جاری کردیے ہیں جو طیارے میں سوار تھے۔
وزارت دفاع سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ جاں بحق فوجیوں میں ایک لیفٹننٹ جنرل، دو میجر، دو فرسٹ لیفٹننٹ بھی شامل ہیں۔
وزیردفاع یاسر گولر نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہیرو 11 نومبر 2025 کو اس وقت شہید ہوگئے جب سی-130 ملیٹر کارگو آذربائیجان سے واپسی میں جیارجیا کی سرحد کے قریب گر کر تباہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اپنی طرف سے اور وزارت قومی دفاع کے ارکان کی جانب سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں اور جاں بحق اہلکاروں کے حق میں دعا کی۔
یہ بھی پڑھیں: ترک فوجی طیارہ سی-130 گر کر تباہ، ہلاکتوں کا خدشہ
ترک فوجی کارگو جہاز سی-130 گزشتہ روز آذربائیجان سے ترکیے آتے ہوئے جیارجیا کی سرحد کے قریب گر کر تباہ ہوا تھا، جس میں عملے کے ارکان سمیت 20 اہلکار سوار تھے۔
صدر رجب طیب اردوان نے گزشتہ روز فوجی طیارے کے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ امدادی ٹیمیں مقامی حکام کے ساتھ مل کر ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔
ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کہ طیارہ حادثے میں جانی نقصان کا تعین نہیں ہوسکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گر کر تباہ
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔