دہشتگردی کی مذمت، خیبرپختونخوا امن جرگے کا اعلامیہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
پشاور: (نیوزڈیسک) خیبرپختونخوا اور ضم اضلاع میں دہشت گردی کی مذمت، خیبرپختونخوا امن جرگے کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق صوبائی اسمبلی میں پاس کی گئی امن و امان کے حوالے سے مجوزہ قوانین پر فوری عمل کیا جائے، پولیس اور سی ڈی ٹی داخلی سلامتی کی قیادت کرینگے۔
آئینی طور پر پولیس اور سی ڈی ٹی باقی اداروں سے معاونت طلب کرسکتی ہے، غیر قانونی محصولات ،بھتہ خوری کے خلاف ایک مربوط پالیسی بنائی جائے تاکہ دہشت گردوں کا معاشی ناطہ ٹوٹ جائے۔
اعلامیہ کے مطابق خیبرپختونخوا بالخصوص شورش زدہ علاقوں میں معدنیات کی غیر قانونی نکاسی کا خاتمہ کیا جائے، غیر سرکاری اراکین پر مشتمل صوبائی سطح پر امن کے فورم قائم کئے جائے۔
شہری سطح پر پولیس اور بلدیاتی اداروں کے مابین ہم آہنگی کے لیے سٹی سیل قائم کئے جائیں، سٹی سیل چیک پوسٹوں کے خاتمے کے لیے مقررہ وقت پر مبنی منصوبے تیار کریں۔
اعلامیہ کے مطابق مقامی حکومتوں کے استحکام اور مالی تحفظ کے لیے آئینی ترامیم کی جائیں، پراونشل فنانس کمیٹی کو نیشنل فنانس کمیشن کے ساتھ منسلک کیا جائے۔
وفاق کے ذمے صوبے کے آئینی مالی حقوق کی مد میں نیڈل ہائیڈل پرافٹ دیا جائے، تیل پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، پانی کا حصہ این ایف سی میں ضم اضلاع کا حصہ دیا جائے۔
جرگہ کے اعلامیہ کے مطابق گیارہویں این ایف سی ایوارڈ پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اعلامیہ کے مطابق
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔