اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت امن جرگہ کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
خیبرپختونخوا میں امن و استحکام کے قیام کے لیے خیبرپختونخوا اسمبلی میں اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت ایک اہم امن جرگہ کا آغاز ہوا۔
اسپیکر بابر سلیم سواتی نے جرگے کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس فورم کا مقصد تمام طبقات کو اعتماد میں لے کر ایک پائیدار امن پالیسی تشکیل دینا ہے۔
اپنے خطاب میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ امن کے لیے سب کو ایک ساتھ بیٹھنا ہوگا کیونکہ امن سیاست سے بالاتر ہے۔
’ہمیں وفاق کے سامنے ایک قومی پالیسی پیش کرنی ہے تاکہ دیرپا امن کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنائی جا سکے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے ساتھ معاملات کو صبر، استقامت اور سفارتی طریقے سے حل کرنا چاہیے، کیونکہ یہاں امن ہوگا تو افغانستان میں بھی امن ہوگا، ہمارا ایک دوسرے کے بغیر گزارہ ممکن نہیں۔
اسد قیصر نے 27ویں ترمیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم نے آئین و قانون کا جنازہ نکال دیا۔
تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ امن جرگہ کے لیے 20 سیاسی جماعتوں کو دعوت دی گئی تھی اور تمام پارٹیوں نے شرکت کی حامی بھری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کل رونما ہونیوالے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، جن کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان واقعات کے پیچھے کسی نہ کسی کا ہاتھ ہے، جبکہ افغانستان نے کبھی بھی پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔
جرگے میں شریک مختلف مکاتبِ فکر کے رہنماؤں نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع میں امن کے قیام کے لیے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مشترکہ جدوجہد کی جائے گی۔
جرگے میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سمیت، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما، سول سوسائٹی کے نمائندے، قبائلی مشران اور دیگر اسٹیک ہولڈرز شریک ہیں۔
ذرائع کے مطابق جرگے میں دہشت گردی کی روک تھام، قیامِ امن اور پائیدار استحکام کے لیے جامع لائحۂ عمل پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔
اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق جرگے کے لیے 400 نشستوں کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ غیر متعلقہ افراد کی شرکت پر پابندی عائد ہے۔
شرکا کو خصوصی پاسز جاری کیے گئے ہیں۔ اعلامیہ کی تیاری کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو وزیرِاعلیٰ اور اسپیکر کی مشاورت سے حتمی مسودہ جاری کرے گی۔
اجلاس کے اختتام پر سفارشات پر مشتمل ایک اعلامیہ تیار کیا جائے گا، جسے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کو ارسال کیا جائے گا تاکہ ان سفارشات پر عملی اقدامات کیے جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر اعلامیہ افغانستان امن جرگہ بابر سلیم سواتی تحریک انصاف جنید اکبر حکمت عملی قبائلی اضلاع.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اعلامیہ افغانستان امن جرگہ بابر سلیم سواتی تحریک انصاف جنید اکبر حکمت عملی قبائلی اضلاع بابر سلیم سواتی امن جرگہ کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔