27ویں آئینی ترمیم دستخط کے لیے صدر کو کب بھیجی جائے گی اور اس کی منظوری کیسے ہو گی؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
آج سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ترمیم کے لاگو ہونے کا لائحہ عمل شروع ہو جائے گا۔
آئین کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہونے والی آئینی ترمیم کا بل اسپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کی جانب سے وزارت پارلیمانی امور کو بھجوایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:27ویں ترمیم میں ووٹ کے لیے نواز شریف کی پارلیمنٹ آمد، قائد مسلم لیگ ن نے کتنے اجلاسوں میں شرکت کی؟
وزارت یہ بل وزیراعظم آفس کو بھیج دیتی ہے، جو آئینی ترمیمی بل پر دستخط کرنے اور گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کرنے کے لیے صدر مملکت کو بھیج دیتا ہے۔
ایوان صدر میں کارروائیایوان صدر میں سیکشن افیسر بل وصول کرتے ہیں اور مختصر متن لکھ کر بل کی کاپی اسسٹنٹ سیکرٹری کو بھیج دیتے ہیں۔ اسسٹنٹ سیکریٹری اپنی رائے فائل پر لکھ کر صدر کے سیکرٹری کو بھیجتے ہیں، اور پھر بل صدر تک پہنچایا جاتا ہے۔
آئین پاکستان کی شق 75 کے تحت وزیراعظم آفس سے جب بھی کوئی آئینی ترمیم یا دیگر بل صدر کو بھیجا جاتا ہے تو صدر کو 10 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ صدر کا اختیار ہے کہ وہ آئینی ترمیمی بل کو منظور کرے یا دوبارہ غور کے لیے پارلیمنٹ بھیج دے۔
آئینی شقیں اور بل کا خود کار قانون بنناآئین کی شق 75(1) کے تحت صدر بل پر 10 دن میں دستخط کر دیتے ہیں یا دوبارہ غور کے لیے پارلیمنٹ بھیج دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:27ویں آئینی ترمیم میں تکینکی غلطی نہیں، قومی اسمبلی نے اچھی تجاویز دیں جس پر غور ہورہا ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ
آئین کے آرٹیکل 75(2) کے مطابق اگر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بل منظور کر لیا جائے اور صدر 10 دن کے اندر دستخط نہ کریں تو آرٹیکل 75(3) کے تحت یہ بل خود بخود قانون بن جاتا ہے۔ آرٹیکل 75(4) کے مطابق اس طرح منظور شدہ کوئی بھی بل یا ترمیم غلط قرار نہیں دی جا سکتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
27ویں ترمیم سینیٹ صدر زرداری قومی اسمبلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 27ویں ترمیم سینیٹ قومی اسمبلی قومی اسمبلی کو بھیج جاتا ہے کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔