نیزل انٹیک،کالی کھانسی کیلئے بدون انجیکشن نئی ویکسین تیار
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
برطانیہ (ویب نیوز)سائنسدانوں نے کالی کھانسی کے علاج کے لیے ایک ویکسین تیار کی جس کے لیے انجیکشن کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تیار کردہ نئی ویکسین کو ناک کے ذریعے جسم میں داخل کیا جا سکے گا۔
ٹرینیٹی کالج لندن کے محققین کی ٹیم نے ناک کے ذریعے جسم میں داخل کرنے والی ایک ویکسین تیار کی ہے جو نہ صرف شدید بیمار سے بچاتی ہے بلکہ بیکٹیریا کی منتقلی کو بھی کم کرتی ہے۔
کالی کھانسی کی موجودہ ویکسینز اگرچہ زندگی تو بچا لیتی ہیں لیکن ان کی کچھ حدود ہیں۔ یہ ویکسینز بچوں کو شدید بیماری سے تو بچالیتی ہیں لیکن ان کے گلے اور ناک میں بیکٹیریا کے پنپنے کو روکنے میں ناکام رہتی ہیں جس سے بیماری کے پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے۔
لیکن نئی ویکسین انفیکشن کی جگہ پر براہ راست مدافعت اور مضبوط حفاظت فراہم کرتی ہے۔
تحقیق کے نتائج جرنل نیچر مائیکروبائیولوجی میں شائع ہوئے جوکہ عالمی سطح پر فوری طور پر مطلوب ویکسینیشن کے نئے طریقے کی جانب توجہ دلاتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔