پنجاب بار کونسل کی صوبہ بھر میں آج مکمل ہڑتال کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
سٹی42:اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد ملک بھر میں وکلاء برادری میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جس کے سبب پنجاب بار کونسل نے صوبے کی تمام عدالتوں میں آج مکمل ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
پنجاب بار کونسل کے مطابق یہ ہڑتال جاں بحق افراد کے سوگ اور یکجہتی کے طور پر کی جا رہی ہے، اس دوران وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عدلیہ اور انصاف کے نظام پر حملہ قرار دیا ہے۔
پی جی ٹرینی ڈاکٹروں کی سنی گئی
وکلاء تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو عبرتناک سزا دی جائے۔ ساتھ ہی عدالتوں میں سکیورٹی کے مؤثر انتظامات یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں آج معمول کے مطابق مقدمات کی سماعت جاری رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔