آباد کی اسلام آباد میں خودکش دھماکے کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251112-08-12
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز پاکستان (آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے اسلام آباد میں جی الیون کچہری کے باہر خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان دشمن قوتوں کی بزدلانہ کارروائی ملک کے امن و استحکام پر حملہ ہے، ملک دشمن عناصر اپنے عزائم حاصل نہیں کر پائیں گے، دہشت گردی سے پاکستان متاثر نہیں ہوگا اور پوری قوم ایسے واقعات کے خلاف متحد ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی وحدت ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عزم ہی ملک کو محفوظ مستقبل کی جانب لے جائے گا۔ چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے سانحے پر جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ واقع میں معصوم جانوں کے ضیاع پر دلی افسوس ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔ حسن بخشی کا مزید کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان اسلام آباد دھماکے کی جامع تحقیقات اور ذمے داران کی فوری گرفتار ی یقینی بنائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انتھک کوششوں، بہادری اور قربانیاں قوم کے لیے فخر ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔