لاہور: پنجاب پولیس کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے صوبے بھر میں ججز، عدالتوں اور وکلا برادری کے لیے سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) لاہور نے اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد نئی سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کی، سی پی او نے لاہور کے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر، تمام ریجنل پولیس افسران، ضلعی پولیس افسران (ڈی پی اوز) اور دیگر حکام کو ہدایت کی کہ وہ عدالتی احاطوں، عدالتوں، ججوں کی رہائش گاہوں، وکلا بار اور ججوں کی نقل و حرکت کے لیے پہلے سے موجود سیکیورٹی نظام کا جائزہ لے کر اسے مزید مضبوط کریں، ان اقدامات کو انتہائی ضروری قرار دیا گیا۔

تمام ڈی پی اوز کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع کے ڈسٹرکٹ اور سیشن ججوں سے فوری ملاقاتیں کریں تاکہ ضلعی عدالتوں کی مجموعی سیکیورٹی اور جج صاحبان کی ذاتی سیکیورٹی، خصوصا ان کی نقل و حرکت کے دوران، پر بات چیت ہو سکے۔

پنجاب کے انسپکٹر جنرل نے پولیس حکام کو ہدایت دی کہ وہ عدالتی عمارتوں اور بارز میں مناسب تعداد میں تربیت یافتہ اہلکار اور ضروری سازوسامان تعینات کریں، ساتھ ہی ججوں کے راستوں پر سرچنگ اور سویپنگ کے عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان کی نقل و حرکت محفوظ رہے۔ سی پی او نے عدالتوں کے داخلی و خارجی راستوں اور عدالتوں کے داخلی دروازوں پر خصوصی ہدایات بھی جاری کیں۔

پولیس افسران کو حکم دیا گیا کہ وہ سیکیورٹی انتظامات کی روزانہ اور ہفتہ وار بنیادوں پر جانچ پڑتال کریں، انہیں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ ہر عدالت میں کارروائی کے دوران وردی پہنے اہلکار تعینات ہوں۔

مزید کہا گیا کہ عدالتوں میں غیر مجاز داخلے کی صورت میں الرٹ جاری کرنے کے لیے ’انٹروژن‘ اور ’ڈیوڑس الارم‘ سسٹم لازمی نصب کیے جائیں۔

سی پی او نے ہتھیاروں سے متعلق پالیسی بھی جاری کی، جس کے مطابق عدالتوں کے احاطے میں صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ہی اسلحہ رکھ سکیں گے، اسی طرح سینئر ججوں کے اہلِ خانہ کی سیکیورٹی میں اضافے کی ہدایت بھی دی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سی پی او پولیس ا

پڑھیں:

اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت