سیکورٹی فورسز کی کے پی کے میں کارروائیاں: فتنہ الخوارج کے 20دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے 2 مختلف کارروائیوں کے دوران فتنۃ الخوارج کے 20 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 8 اور 9 نومبر کو خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ آپریشنز کیے گئے، اس دوران بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے فتنۃ الخوارج کے 20 دہشت گرد مارے گئے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں دہشت گردوں کی کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شوال میں کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے فتنۃ الخوارج کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بھارت کی پشت پناہی رکھنے والے 8 خوارج جہنم واصلِ ہوگئے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ اسی طرح ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن درہ آدم خیل کے علاقے میں کیا گیا، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد فتنۃ الخوارج کے مزید 12 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں تاکہ کسی بھی باقی ماندہ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد کو ختم کیا جا سکے۔
ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی ایکشن پلان کے تحت فیڈرل ایپکس کمیٹی کی منظوری سے چلنے والے وژن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت اپنی انسدادِ دہشت گردی مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے، تاکہ غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے اس ناسور کو مکمل طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فتنۃ الخوارج کے سیکیورٹی فورسز پاک فوج
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔