عمران خان کی رہائی کا فیصلہ عدالتوں کا اختیار ہے: یورپی یونین سفیر
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
پاکستان میں یورپی یونین کے نئے سفیر رائمونڈس کاروبلس نےکہا ہےکہ عمران خان کی رہائی کا فیصلہ عدالتوں کا اختیار ہے۔ یورپی یونین کے سفیر نے کہا کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو ، یہ مطالبہ درست ہے ۔رائمونڈس کاروبلس کے مطابق افغان طالبان کے دوحہ کے وعدوں پر رائے کے لیے معلومات درکار ہیں، ترکیے کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت جاری رکھی جائے ۔انہوں نے مزید کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے متعلق پاکستان کے تحفظات جائز ہیں۔ایک سوال کے جواب میں سفیر کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم پاکستان کا داخلی معاملہ ہے جب کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کا فیصلہ عدالتوں کا اختیار ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔