کے ایم سی کا اورنگی ٹائون شپ میں چائنہ کٹنگ کیخلاف تحقیقات کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے اورنگی ٹاؤن شپ میں چائنہ کٹنگ کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔میونسپل کمشنر نے دو سابق پروجیکٹ ڈائریکٹرز کے خلاف اینٹی کرپشن میں تحریری شکایات جمع کروائی ہیں۔میونسپل کمشنر نے اینٹی کرپشن کو لکھے گئے خط میں کہا کہ سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر نے اسلام چوک کا پلاٹ جعلسازی اور غیرقانونی طور پرٹرانسفر کیا، سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر کے مبینہ فرنٹ مین نے 60 لاکھ روپے کی بھاری رشوت لی۔خط کے متن کے مطابق متعلقہ پلاٹوں کی سرکاری فائلیں ریکارڈ روم سے غائب ہیں، کم ریٹ چالان جاری ہونے سے کے ایم سی کو شدید مالی نقصان پہنچایا گیا، ریٹائرمنٹ کے باعث سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر کیخلاف کے ایم سی کارروائی نہیں کر سکتی، کیس قواعد کے تحت اینٹی کرپشن کو باقاعدہ انکوائری کے لیے ریفر کر دیا گیا ہے۔میونسپل کمشنر کی جانب سے لکھے خط کے متن کے مطابق دوسرے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر پر رفاحی پلاٹ غیر قانونی طور پر کمرشل لیز کرنے کا الزام ہے، سیکٹر 13 ایچ رفاحی پلاٹ کو ناجائز طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا، سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر کی ریٹائرمنٹ کے باعث کے ایم سی کارروائی نہیں کر سکتی۔خط میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹرز کے خلاف جعلسازی کا معاملہ اینٹی کرپشن کو بھیجنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کے ایم سی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔