کرپشن کیس میں گرفتار ملزم راولپنڈی پولیس کی حراست سے فرار، اے ایس آئی ملوث
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
کرپشن کیس لاہور میں گرفتار ملزم اقبال سنگھیڑا راولپنڈی پولیس کی حراست سے چکری موٹروے ریسٹ ایریا پر فرار ہوگیا۔ واقعے کے بعد تھانہ چکری میں فرار کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں اے ایس آئی ظفر اقبال، کانسٹیبل یاسر، احمد بلال اور محرم شہزاد کو نامزد کیا گیا ہے۔ اہلکاروں کے خلاف پولیس آرڈر 2002 کی سیکشن 155-سی کے تحت کارروائی کی گئی ہے، جبکہ مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 223، 224 اور 225 بھی شامل کی گئی ہیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق اقبال سنگھیڑا کو لاہور سے راولپنڈی اینٹی کرپشن عدالت میں پیشی کے لیے لایا گیا تھا۔ راولپنڈی میں پیشی کے بعد ملزم کو دوبارہ لاہور منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں چکری ریسٹ ایریا پر واش روم استعمال کرنے گیا اور وہیں سے پولیس کی حراست سے فرار ہوگیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزم کے بھائی اور چھ نامعلوم افراد پہلے سے ریسٹ ایریا میں موجود تھے جو اسے اپنی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔ مزید بتایا گیا کہ اے ایس آئی ظفر اقبال کا ملزم کے بھائی سے رابطہ تھا۔
بیان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے اپنے طور پر ملزم کی تلاش کی مگر ناکامی پر شرمندگی کے باعث واقعے کی فوری اطلاع نہیں دی۔ مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ اے ایس آئی ظفر اقبال سمیت دیگر پولیس اہلکاروں نے غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل اے ایس آئی کے مطابق
پڑھیں:
کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
سولچر بازار پولیس نے موٹرسائیکل لفٹنگ میں ملوث خاتون ملزمہ کو گرفتار کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق سولچر بازارپولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے موٹر سائیکل لفٹنگ میں ملوث خاتون ملزمہ سحر بتول زوجہ کاشف خان کو گرفتار کرلیا
۔پولیس کے مطابق ملزمہ کی گرفتاری سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے عمل میں لائی گئی۔گرفتار ملزمہ اپنے شوہر کے ہمراہ موٹرسائیکل لفٹنگ کی درجنوں وارداتوں میں ملوث رہی ہے۔
دونوں میاں بیوی کو موٹر سائیکل لے جاتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ملزمہ کے قبضے سے موٹر سائیکل نمبر KQX-2361 میکر سپر اسٹار 70 برآمد کرلی گئی۔
گرفتارملزمہ اورفرار شوہر کے خلاف ضابطے کے تحت مقدمہ درج، مزید تفتیش جاری ہے۔