کریڈٹ کارڈ بنانے والی خاتون سے جنسی زیادتی کے بعد نازیبا تصاویر کیس
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251118-02-18
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے کریڈٹ کارڈ بنانے والی خاتون سے زیادتی کی نازیبا تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا سے ہٹانے کی ہدایت کردی۔سندھ ہائیکورٹ میں کریڈٹ کارڈ بنانے والی خاتون سے زیادتی اور نازیبا ویڈیو وائرل کرنے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔درخواستگزار کے وکیل قمر عباس ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ پولیس مفرور ملزم کو گرفتار نہیں کررہی۔ ملزم زونیب متاثرہ خاتون کو ہراساں کررہا ہے۔ایس پی انویسٹی گیشن عثمان سدوزئی اور دیگرپیش ہوئے، پراسیکیوٹر نے موقف دیا کہ خاتون ایس پی ماجدہ ہالیپوتہ اور سب انسپکٹر ریحان کا تبادلہ ہوگیا ہے۔ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ مفرور ملزم زونیب کو گرفتار کرنے کے لیئے مہلت دی جائے۔ عدالت نے ہدایت کی نازیبا ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر بلاک اور ہٹائی جائیں۔ متاثرہ خاتون کوتحفظ فراہم کیا جائے۔استغاثہ کے مطابق ملزمان نے خاتون کو ٹیپو سلطان کے علاقے میں بلا کر زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔