Jasarat News:
2026-06-03@07:34:30 GMT

اجتماع عام کے تشہیری بینرز اور بورڈ اتارنا قابل مذمت ہے

اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

فیصل آباد(وقائع نگارخصوصی)جماعت اسلامی کے ضلعی امیرپروفیسرمحبوب الزماںبٹ ،جنرل سیکرٹری یاسرکھاراایڈووکیٹ نے پی ایچ اے کی طرف سے اجتماع عام کے تشہیری بینرز اوربورڈاتارنے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ایک طرف سارا شہرمیں ضمنی الیکشن میں حصہ لینے والے سرکاری امیدواروںکے پوسٹرز ، بینرز سے بھرا پڑا ہے جوکہ ویسے بھی انتخابی ضابطہ اخلاق کی صریحاًـ ورزی ہے لیکن انتظامیہ نے اس پر آنکھیں بند کررکھی ہیں۔بیوروکریسی شاہ سے شاہ کی وفاداری میں اپنے اصل فرائض بھول گئی ہے۔انتظامیہ باز نہ آئی تو جماعت اسلامی کے کارکن اپنے بینرزکی حفاظت کیلئے خود میدان میں نکلیں گے اور کسی قسم کے ناخوشگوار واقعہ کی ذمہ دارانتظامیہ ہو گی۔انہوںنے کہاکہ پرامن سیاسی و سماجی سرگرمیوں کی ترویج ہر جماعت اور ہر شہری کا بنیادی اور آئینی حق ہے، جس میں رکاوٹ جمہوری اقدار کے منافی ہے۔جماعت اسلامی ایک منظم، پرامن اور نظریاتی سیاسی جماعت ہے جس کے جلسے، اجتماعات اور دعوتی سرگرمیاں دستورِ پاکستان کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کی جاتی ہیں۔جماعت اسلامی اپنی پرامن جدوجہد، دعوتی مشن اور عوامی خدمت کے سفر کو ہر حال میں جاری رکھے گی۔

وقائع نگار خصوصی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت