data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251117-01-16
کراچی (رپورٹ: واجد حسین انصاری) مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوںکے رہنمائوںنے جماعت اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام (21 تا 23 نومبر 2025ء) کو مینار پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والے عظیم الشان اجتماع عام بعنوان’’ بدل دو نظام ‘‘کے حوالے سے اپنے خصوصی پیغامات میںکہا ہے کہ جماعت اسلامی کا اجتماع عام اور اس سلسلے میں روزنامہ جسارت کا شائع ہونے والا خصوصی ایڈیشن ملی وحدت اور قومی استحکام کے جذبے کے فروغ، اتحاد امت، استحکام پاکستان اور عوامی بیداری کا باعث بنے گا، یہ اجتماع پاکستان کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی جدوجہد میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ سیاسی و مذہبی رہنمائوں نے روزنامہ جسارت کی انتظامیہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجتماع عام کے موقع پر جسارت کے خصوصی ایڈیشن کی اشاعت بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو قابل ستائش ہے۔ امیر تنظیم اسلامی پاکستان شجاع الدین شیخ نے اپنے پیغام میںکہا کہ وہ قائدین، کارکنان اور شرکائے اجتماع کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں، یہ اجتماع عام کارکنان و ارکان اور قائدین کی آپس میں ملاقات کا اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ نیز یہ اجتماع امت مسلمہ میں دینی وفکری بیداری اور اجتماعی نظم و ضبط کے فروغ کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ جماعت اسلامی پاکستان کو اقامت دین، عدل و انصاف کے قیام اور ملک و ملت کی خدمت میں کامیابی عطا فرمائے، آمین اللہ ہم سب کو خلوص و اخلاص، تقویٰ اور باہمی تعاون کے جذبے سے سرشار فرمائے، آمین۔ جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کے رہنما اور ملی یکجہتی کونسل سندھ کی مرکزی شوریٰ کے رکن قاضی احمد نورانی صدیقی نے اپنے پیغام میںکہا کہ جماعت اسلامی کا شمار وطن عزیز کی مو ثر دینی و سیاسی جماعتوں میں ہوتا ہے، اپنے قیام سے لے کر آج تک جماعت اسلامی ملک میں اسلامی نظام کی جدو جہد میں مصروف عمل ہے،21 تا 23 نومبر 2025ء کو لاہور میں جماعت اسلامی کا ہونے والا اجتماع عام اسلامیان پاکستان کے لیے امید کی ایک کرن ہے، یقیناً اس اجتماع سے جہاں جماعت اسلامی سے وابستہ کارکنان کو ازسر نوصف بندی کا موقع ملے گا وہاں دوسری طرف انقلاب کی راہ پر گامزن لاکھوں کارکنان راستے کا ایک اور سنگ میل عبور کریںگے‘ نئے حوصلے، نئے عزم سے بدی کی قوتوں کے مقابلے کے لیے صف بستہ ہوں گے‘ اس عظیم الشان اجتماع سے ملک میں نفاذ اسلام کی منزل قریب ہوگی اور اسلام دشمنوں کے عزائم بے نقاب ہوں گے‘ امید قوی ہے کہ اجتماع اسلامیان پاکستان کو وطن عزیز کے روشن مستقبل کی منظر کشی کرنے میں مدد دے گا، اللہ پاکستان کی تمام دینی جماعتوں کو یکجہت ہوکر عالم کفر کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔ امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث سندھ مفتی محمد یوسف قصوری نے اپنے پیغام میںکہا کہ شعائر اسلام، ملی وحدت ، قومی استحکام اور حب الوطنی کے جذبے کو اجاگر کرنے کے لیے روزنامہ جسارت کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے‘ جماعت اسلامی پاکستان کے اجتماع عام ( 21، 22، 23 نومبر 2025ء) کے موقعے پر خصوصی ایڈیشن کی اشاعت بھی اسی سلسلے کی ایک مضبوط کڑی ہے، اسلام کے اس سنہری اصول ( نیکی و تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ و زیادتی پر ایک دوسرے کی مددنہ کرو) کا مصداق یہ خاص ایڈیشن اور اجتماع عام ملی وحدت اور قومی استحکام کے جذبے کو فروغ دینے کا ذریعہ بنے گا۔ پیپلز پارٹی سندھ کے صدر، سندھ اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے سربراہ نثار احمد کھوڑونے اپنے پیغا م میںکہا کہ اسلام آباد، کراچی اور حیدرآباد سے بیک وقت شائع ہونے والے روزنامہ جسارت اخبار کی انتظامیہ کو خصوصی ایڈیشن شائع کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، روزنامہ جسارت گزشتہ 5 دہائیوں سے جمہوری اصولوں کے تحت جمہور کے مسائل کو ایوانوں اور ارباب اختیار تک پہنچانے کی جدو جہدکر رہا ہے، امید ہے کے روزنامہ جسارت مستقبل میں بھی جمہوری اصولوں کے تحت عوام کی آواز بنے گا۔ مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے جنرل سیکرٹری اور جی ڈی اے کے مرکزی رہنما سردار عبدالرحیم نے اپنے پیغام میںکہا کہ روزنامہ جسارت اس جدوجہد کا فکری اور صحافتی ترجمان ہے جو ہمیشہ سچائی، انصاف اور اصولی صحافت کے عزم کی نمائندگی کرتا رہا ہے،ہم دعاگو ہیں کہ جماعت اسلامی کا یہ اجتماع اتحاد امت ، استحکامِ پاکستان اور عوامی بیداری کا باعث بنے، اللہ کرے روزنامہ جسارت اسی طرح مثبت اور باکردار صحافت کے ذریعے قوم کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتا رہے۔ مرکزی مسلم لیگ سندھ کے صدر فیصل ندیم نے اپنے پیغا م میںکہا کہ امید ہے کہ جماعت اسلامی کا مینار پاکستان پر ہونے والا اجتماع قوم میں اجتماعیت، اتحاد اور اصلاح معاشرے کا پیغام ثابت ہوگا، اجتماع اور مثبت سرگرمیاں جماعتوں میں تحریک اور عوامی بیداری کا بنیادی جزو ہوتی ہیں، بدقسمتی سے پاکستان طویل عرصے سے اختلافات، انتشار اور بیرونی سازشوں کی زد میں رہا ہے، مرکزی مسلم لیگ نے ہمیشہ اپنے اسٹیج اور پلیٹ فارم سے اتحاد، اخوت اور رواداری کا پیغام دیا ہے، ہم خدمت کی سیاست اور معاشرتی تربیت کے خواہاں ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کے مرکزی سیکرٹری جنرل، وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی اور سابق نائب ناظم کراچی سٹی محمد طارق حسن نے پیغام میںکہا کہ جماعت اسلامی نظریاتی جماعت ہے جو ملک کی سیاست میں اہم مقام رکھتی ہے، امید کرتا ہوں کہ یہ اجتماع نظریہ پاکستان، ملک کی ترقی و خوشحالی اور ریاستی اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے صف بندی کرئے گا‘ جسارت جمہوری تقاضوں، نظریہ کا امین ہے اور اصولی صحافت میں اس کا اولین کردار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ فلسطین فائونڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم نے پیغام میں کہا کہ یہ اجتماع محض ایک سیاسی یا تنظیمی اجتماع نہیں بلکہ امت مسلمہ کی بیداری، شعور اور مزاحمتی فکر کا مظہر ہے۔ میری دعا ہے کہ یہ اجتماع پاکستان میں عدل و انصاف کے قیام، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور فلسطین و کشمیر کے مظلوموں کے لیے بیداری و مزاحمت کی نئی لہر کا نقطہ آغاز بنے۔ اہلِ حدیث رابطہ کونسل پاکستان کے صدر ڈاکٹر عامر عبداللہ محمدی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ میں جماعتِ اسلامی پاکستان کے تین روزہ اجتماعِ عام کے موقع پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ اجتماع امتِ مسلمہ میں بیداری، اتحاد اور اصلاحِ معاشرہ کے جذبے کو تقویت دینے کا سبب بنے گا۔ دعا ہے کہ یہ اجتماع قرآن و سنت کی روشنی میں پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی جدوجہد میں سنگِ میل ثابت ہو۔اللہ تعالیٰ اجتما ع کے تمام شرکا کے اخلاص، کوششوں اور دعوتی جدوجہد کو قبول فرمائے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے اپنے پیغام میںکہا کہ اور عوامی بیداری کا نے پیغام میںکہا کہ کہ جماعت اسلامی کا نے اپنے پیغام میں اسلامی پاکستان خصوصی ایڈیشن نے پیغام میں کہ یہ اجتماع پاکستان کو پاکستان کے مسلم لیگ سندھ کے کے جذبے کے لیے رہا ہے بنے گا

پڑھیں:

علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی

اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی

مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔

تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔

حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔

مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔

سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔

علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔

چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد