data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر)جمہوریہ بلغاریہ کی سفیر ارینا گانچیوا نے کہا ہے کہ بلغاریہ اور پاکستان رواں سال اپنے سفارتی تعلقات کی 60 ویں سالگرہ منا رہے ہیں یہ دونوں ملکوں کے لیے آگے بڑھنے اور بالخصوص معیشت اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کا بہترین وقت ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان پہلے ہی حکومت سے حکومت کی سطح پر باضابطہ دوطرفہ میکنزم موجود ہے جو مشترکہ بین الحکومتی کمیشن برائے اقتصادی تعاون کی صورت میں قائم ہے۔یہ کمیشن 2015 میں قائم ہوا جس کا پہلا اجلاس صوفیہ میں اور دوسرا اجلاس 2019 میں اسلام آباد میں ہوا جبکہ تیسرا اجلاس آئندہ سال بلغاریہ میں منعقد ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کمیشن کے آئندہ اجلاس میں پاکستانی تاجر حکومتی عہدیداروں کے ساتھ بھرپور شرکت کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں صدر کے سی سی آئی محمد ریحان حنیف، سینئر نائب صدر محمد رضا، چیئرمین ڈپلومیٹک مشنز اینڈ ایمبیسیز لائڑن سب کمیٹی احسن ارشد شیخ، سابق صدر مجید عزیز، سابق نائب صدور حارث اگر، تنویر باری اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے اراکین بھی شریک تھے۔سفیر نے بین الحکومتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے موقع پر بزنس ٹو بزنس فورم کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلغاریہ کے کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں سے باہمی اقتصادی مفاد کے مخصوص شعبوںکو تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔دونوں جانب سے شیڈول کو حتمی شکل دینے اور پاکستانی کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کرنے کے بعد مزید تفصیلات شیئر کی جائیں گی تاکہ وہ پہلے سے اپنی شرکت کی منصوبہ بندی کرسکیں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بلغاریہ دوطرفہ تجارت و اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر رائے کے تبادلے کو اہمیت دیتا ہے۔ یہ ہمارے کام کا بنیادی حصہ ہے اور اسی لیے ہم کراچی چیمبر کے ساتھ روابط کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ گزشتہ 4 سالوں سے پاکستان میں تعینات بلغاریہ کی سفیر نے مزیدکہا کہ انہوں نے ہمیشہ تاجر برادری کے ساتھ براہ راست بات چیت کو اہم سمجھا ہے بالخصوص کراچی جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور ایک اہم بندرگاہ اور تجارتی مرکز ہے۔ ہمیں آپ کے شہر اور تاجر برادری کے ساتھ یہ روابط قائم رکھنے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بلغاریہ کو پاکستان میں یورپی یونین کے رکن ممالک میں اتنی زیادہ پہچان حاصل نہیں ہے جس کی وجہ سے اس طرح کی سرگرمیاں اہم ہیں۔میں آپ کو مزید معلومات فراہم کرنے اور بلغاریہ کے ساتھ تجارت وکاروباری مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دینے کے لیے یہاں آئی ہوں۔انہوں نے اپنے ملک کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 6.

4 ملین کی آبادی رکھنے والا بلغاریہ رقبے کے لحاظ سے چھوٹا ہے لیکن اسٹریٹجک حیثیت کا حامل ہے جو یورپی یونین کا رکن ہے اور یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان پْل کا کردار ادا کرتا ہے۔بلغاریہ کی سرحد ترکی سے ملتی ہے جو پاکستان کا ترجیحی شراکت دار ہے۔پاکستانی تاجر اکثر ترکی کا سفر کرتے ہیں۔ بلغاریہ بالکل قریب ہے۔ استنبول سے صوفیہ تک صرف ایک گھنٹہ پچاس منٹ کی پرواز ہے اور دونوں شہروں کے درمیان بذریعہ سڑک بھی سفر کیا جا سکتا ہے۔بلغاریہ یورپی آٹوموبائلز میں استعمال ہونے والے90 فیصد پرزے تیار کرتا ہے اور زراعت، انجینئرنگ، دواسازی، قابلِ تجدید توانائی اور مختلف صنعتوں میں دیرینہ مہارت رکھتا ہے۔ قبل ازیں کراچی چیمبر ک صدر ریحان حنیف نے بلغاریہ کے سفیر کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ پاکستان اور بلغاریہ کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بلغاریہ طویل عرصے سے دوستانہ تعلقات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جو باہمی احترام، مشترکہ امنگوں اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش پر مبنی ہیں۔ جغرافیائی فاصلے کے باوجود دونوں ملکوں میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، ثقافتی تبادلے اور عوامی روابط بڑھانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کراچی چیمبر بلغاریہ کی بلغاریہ کے کہ بلغاریہ کے درمیان انہوں نے کے ساتھ کہا کہ ہے اور

پڑھیں:

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔

قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔

ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،

وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،

متعلقہ مضامین

  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے