بلغاریہ کی سفیر کا کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)جمہوریہ بلغاریہ کی سفیر ارینا گانچیوا نے کہا ہے کہ بلغاریہ اور پاکستان رواں سال اپنے سفارتی تعلقات کی 60 ویں سالگرہ منا رہے ہیں یہ دونوں ملکوں کے لیے آگے بڑھنے اور بالخصوص معیشت اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کا بہترین وقت ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان پہلے ہی حکومت سے حکومت کی سطح پر باضابطہ دوطرفہ میکنزم موجود ہے جو مشترکہ بین الحکومتی کمیشن برائے اقتصادی تعاون کی صورت میں قائم ہے۔یہ کمیشن 2015 میں قائم ہوا جس کا پہلا اجلاس صوفیہ میں اور دوسرا اجلاس 2019 میں اسلام آباد میں ہوا جبکہ تیسرا اجلاس آئندہ سال بلغاریہ میں منعقد ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کمیشن کے آئندہ اجلاس میں پاکستانی تاجر حکومتی عہدیداروں کے ساتھ بھرپور شرکت کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں صدر کے سی سی آئی محمد ریحان حنیف، سینئر نائب صدر محمد رضا، چیئرمین ڈپلومیٹک مشنز اینڈ ایمبیسیز لائڑن سب کمیٹی احسن ارشد شیخ، سابق صدر مجید عزیز، سابق نائب صدور حارث اگر، تنویر باری اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے اراکین بھی شریک تھے۔سفیر نے بین الحکومتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے موقع پر بزنس ٹو بزنس فورم کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلغاریہ کے کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں سے باہمی اقتصادی مفاد کے مخصوص شعبوںکو تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔دونوں جانب سے شیڈول کو حتمی شکل دینے اور پاکستانی کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کرنے کے بعد مزید تفصیلات شیئر کی جائیں گی تاکہ وہ پہلے سے اپنی شرکت کی منصوبہ بندی کرسکیں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بلغاریہ دوطرفہ تجارت و اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر رائے کے تبادلے کو اہمیت دیتا ہے۔ یہ ہمارے کام کا بنیادی حصہ ہے اور اسی لیے ہم کراچی چیمبر کے ساتھ روابط کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ گزشتہ 4 سالوں سے پاکستان میں تعینات بلغاریہ کی سفیر نے مزیدکہا کہ انہوں نے ہمیشہ تاجر برادری کے ساتھ براہ راست بات چیت کو اہم سمجھا ہے بالخصوص کراچی جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور ایک اہم بندرگاہ اور تجارتی مرکز ہے۔ ہمیں آپ کے شہر اور تاجر برادری کے ساتھ یہ روابط قائم رکھنے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بلغاریہ کو پاکستان میں یورپی یونین کے رکن ممالک میں اتنی زیادہ پہچان حاصل نہیں ہے جس کی وجہ سے اس طرح کی سرگرمیاں اہم ہیں۔میں آپ کو مزید معلومات فراہم کرنے اور بلغاریہ کے ساتھ تجارت وکاروباری مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دینے کے لیے یہاں آئی ہوں۔انہوں نے اپنے ملک کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 6.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کراچی چیمبر بلغاریہ کی بلغاریہ کے کہ بلغاریہ کے درمیان انہوں نے کے ساتھ کہا کہ ہے اور
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز