دفاعی منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے کا ریلیف پیکج منظور
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیرخزانہ اورنگزیب کی زیرصدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں وفاقی سول آرمڈ فورسز کے دفاعی آلات کی مرمت اور دفاعی خدمات کے منصوبوں کے لیے اضافی فنڈز کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں سول آرمڈ فورسز کے دفاعی آلات کی مرمت کے لیے 10 کروڑ 3 لاکھ روپے جبکہ فورسز کو دیگر ضروریات کے لیے 84 کروڑ 15 لاکھ 60 ہزار روپے فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔
وزارت خزانہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں دفاعی خدمات کے منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ بھی منظور کی گئی۔ اجلاس میں پاسکو کے خاتمے اور اس کے لیے ایک خصوصی ادارہ قائم کرنے کی منظوری دی گئی، جبکہ ایس پی وی کا ابتدائی ادا شدہ سرمایہ 10 لاکھ روپے مقرر کیا گیا۔
مزید برآں، پیٹرولیم ڈویژن کی سمری پر آف شور آئل اینڈ گیس بلاکس کی لائسنس مدت میں توسیع اور ورکنگ انٹرسٹ کی منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس میں غیرملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے نئی مراعاتی تجاویز کو بھی حتمی منظوری دی گئی۔
وزارت خزانہ کے مطابق منظور شدہ فنڈز تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ کے طور پر داخلی سلامتی، بارڈر کنٹرول اور ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے استعمال ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی منظوری اجلاس میں کے لیے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔