پاکستان اور ڈنمارک کا اقتصادی تعاون مزید مضبوط بنانے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
پاکستان اور ڈنمارک نے معاشی، ترقیاتی اور ماحولیاتی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کی مثبت رفتار کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ اتفاق وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور پاکستان میں نئی تعینات ہونے والی ڈنمارک کی سفیر ہز ایکسی لینسی ماجا مورٹینسن کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں ہوا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں ڈنمارک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں بعض غیر ملکی کمپنیوں کو مشکلات کا سامنا رہا، تاہم اب پاکستان نے واجبات کی ادائیگیاں مکمل طور پر کلیئر کر دی ہیں اور مالیاتی و اقتصادی استحکام کی جانب مثبت پیش رفت جاری ہے۔
ملاقات کے دوران وزیر خزانہ کو فیصل آباد میں ڈنمارک کے بڑے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ منصوبے پر بریفنگ دی گئی، جو واسا کے شراکت سے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ چھ سالہ ماڈل کے تحت پائیداری اور مؤثر علم کی منتقلی یقینی بنائے گا۔
ڈنمارک کی سفیر نے بتایا کہ اس ہفتے ڈنمارک کے تین وفود پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے رابطوں کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈنمارک کی کمپنیاں پاکستان میں لاجسٹکس، بحری انفراسٹرکچر، مینوفیکچرنگ اور توانائی کے شعبوں میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں اور اپنی سرگرمیوں کو مزید بڑھانے کی خواہاں ہیں۔
سفیر نے توانائی کے شعبے میں ڈنمارک کے حکومت بہ حکومت تعاون کے جامع پروگرام کا ذکر کیا، جو ڈینش انرجی ایجنسی کی معاونت سے جاری ہے اور اس میں انرجی ماڈلنگ، انفراسٹرکچر پلاننگ، گرڈ کی بہتری اور استعداد کار میں اضافہ شامل ہے۔
انہوں نے پاکستان میں ڈنمارک بزنس کلب کے ساتھ روابط بڑھانے اور آئندہ ہفتوں میں لاہور اور کراچی کے دوروں کے ذریعے صنعتکاروں سے ملاقاتیں کر کے تجارتی تعلقات مزید مضبوط بنانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ڈنمارک کے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔