شادی ہالز رات 12بجے بند کرنے اورایکو پر پابندی کاخیرمقدم کرتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان سنی تحریک کے سینئر مرکزی نائب صدر محمد خالد قادری نے ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کی جانب سے شادی ہالز رات 12 بجے سختی سے بند کرنے، آتشبازی اور ایکوسائونڈ لگی گاڑیوں پر پابندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بس اس آرڈر پر بلا امتیاز سختی سے عملدرآمد کروادیا جائے تو عوام کو کافی حد تک سکون میسر ہوگا ۔ حیدرآباد کے حسن کو ٹوٹی پھوٹی سڑکوں،انکروچمنٹ اور بے ڈھنگی پارکنگ نے تباہ کردیا ہے۔ انکروچمنٹ کا خاتمہ وقت اور عوام کی اہم ضرورت ہے، بلا امتیاز دوکان کے شٹر سے باہر سامان رکھنے پر پابندی عائد کی جائے اور بالخصوص جہاں انکروچمنٹ کی وجہ سے گزرنا محال ہے وہاں فی الفور مستقل انکروچمنٹ کا خاتمہ کیا جائے روڈ پر کرسیاں ٹیبل رکھنے پر پابندی مستقل عائد کی جائے۔ گرین بیلٹ لاکھوں روپیہ خرچ کرنے کے بعد بھی ناکارہ ہو گئے ہیں اسکا بہترین حل یہ ہے کہ گرین بیلٹ پر کار اور موٹر سائیکل پارکنگ بنا دی جائے تاکہ شہریوں کو گزرنے میں آسانی ہو۔ محمد خالد قادری نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ ، پولیس اور متعلقہ محکمے اس آرڈر پر مستقل سختی سے بلا امتیاز عمل کروائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پر پابندی
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔