data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ کی جانب سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں تباہ شدہ واٹر سپلائی اور ڈرینج کی سسٹم کی بحالی کیلئے سندھ فیلڈ ایمرجنسی ری ہیبلیٹیسن پروجیکٹ کے تحت اقدامات کئے جارہے ہیں ، دو مراحل پر مشتمل اس منصوبے میں مجموعی طورپر 400سے زائد واٹر سپلائی اور ڈرینج اسکیموں کی مرمت و بحالی شامل ہے جس سے صوبے کے مختلف اضلاع میں تین ملین سے زائد آبادی کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی ممکن ہوسکے گی، پہلے مرحلے میں بدین، عمرکوٹ، شہید بینظیر آباد، میرپورخاص اور سانگھڑ سمیت دیگر اضلاع میں کل 114 پانی کی فراہمی اور 23ڈرینج اسکیموں کی بحالی کی جارہی ہے جس سے تقریباً 10 لاکھ 27ہزار افراد براہ راست مستفید ہوں گے، یہ اسکیمیں نان ایمرجنسی رسپانس اسٹرکچر کے تحت مکمل کی جارہی ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں جیکب آباد، قمبرشہدادکوٹ، دادو، جامشورو، نوشہروفیروز، خیرپور اور دیگر سیلاب زدہ علاقوں میں 264 واٹر سپلائی اور 133 ڈرینج اسکیموں کی اپ گریڈیشن شامل ہیں، یہ منصوبے ایمرجنسی رسپانس اسٹرکچر کے طورپر قائم کئے گئے ہیں جن سے تقریباً 19لاکھ 90 ہزار افراد استفادہ کریں گے۔ الٹرافلٹریشن سسٹم اور بائیو کلورنٹیر کی مدد سے صاف اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کیا جارہا ہے ، بعض علاقوں میں سولر سسٹم بھی نصب کئے گئے ہیں تاکہ بجلی کی عدم دستیابی کی صورت میں پانی کی فراہمی متاثر نہ ہوسکے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: علاقوں میں

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع

حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔

سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب