گلشن معمار میں پانی کے بحران کو فوری ختم کیا جائے‘ابوالضیاپرویز
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251118-02-11
کراچی(پ ر) جماعت اسلامی ضلع گڈاپ پبلک ایڈ کمیٹی کے صدر ابو الضیا پرویز نے کہا ہے کہ ” پانی انسانی زندگی کی سب سے اہم ضرورت ہے، جسکے بغیر زندگی کا تصور محال ہے، پینے کھانا بنانے صفائی اور طہارت کے لیے پانی ضروری ہے لیکن گزشتہ چند ماہ سے گلشن معمارکے مختلف سیکٹرز میں پانی کی عدم فراہمی اور کم مقدار میں فراہمی کی وجہ سے اہلیان معمار کو انتہائی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی ضلع گڈاپ کے صدر پبلک ایڈ کمیٹی ابو الضیاپرویز نے اہلیان گلشن معمار کو پانی کی عدم فراہمی کی شکایات پر فوری نوٹس لیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہفتے میں دو سے تین مرتبہ مہنگے داموں ٹینکر کا ناقص پانی خریدنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، اگر کہیں بورنگ ہے تو بورنگ کا پانی کھارا ہے اور پینے کے لائق نہیں پینے کے پانی تو ہو بھی کافی عرصے سے لوگ خرید کر پینے پر مجبور ہیں بورنگ کے پانی کو پینے کے علاوہ دیگر ضرورتوں کے لیے حاصل کرنیکے لیے بجلی خرچ ہوتی ہے اس لیے یہ پانی حاصل کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے، ایک مخصوص سیاسی پارٹی کی جانب سے گلشن معمار کے مکینوں کو پانی کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالی جارہی ہے جسکا مقصد گلشن معمار کی انتظامیہ کو اپنے قبضے اور قابو میں رکھ اپنیمفادات حاصل کرنا ہے۔ ہماری واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور صوبائی و شہری سطح پر فراہمی آب کے زمہ داران سے اپیل ہے کہ گلشن معمار میں پانی کے بحران کے مسئلے کو فورطور پر حل کیا جائے اور گلشن معمار کے تمام سیکٹرز میں پانی کی فراہمی کے سلسلے کو بہتر بنایا جائے۔ تاکہ اہلیان گلشن معمار کا مسئلہ حل ہو جائے۔ عوام کے مسائل حل کرنا واٹر بورڈ شہری و صوبائی حکومت کا فرض ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گلشن معمار میں پانی پانی کی
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔